30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعضھم صغارا اوغائبا تجوز مقاسمۃ الوصی فیما سوی عقار الغائبین أما لوقاسم للورثۃ علی الموصی لہ بان کان الموصی لہ ھو الغائب وامسك لہ الثلث لم تجز مقاسمتہ ومثلہ فی الولوالجیۃ واستدل بان الوصی قائم مقام الموصی والورثۃ خلف عن الموصی فکان الوصی قائما مقام الورثۃ فتصح مقاسمتہ للموصی لہ عن الورثۃ والموصی لہ لیس بخلف عن الموصی فلایقوم الوصی مقامہ فلاتجوز مقاسمتہ للورثۃ عن الموصی لہ وھذا معنی ما فی الجامع الصغیر والھدایۃ والسراجیۃ والخلاصۃ والمنیۃ والغنیۃ والبنیۃ وغیرھا [1] اھ مختصرا۔ |
اوراگران میں سے بعض نابالغ یاغائب ہیں تو وصی کامقاسمہ غائب وارثوں کی غیرمنقول جائداد کے ماسوا میں جائزہوگا،اور اگراس نے وارثوں کے لئے وصیت والے شخص پرمقاسمہ کیابایں صورت کہ وہ وصیت ولاشخص غائب تھااوروصی نے اس کے لئے تہائی مال روك لیا تو اس کامقاسمہ جائزنہیں، اور اسی کی مثل ولوالجیہ میں ہے،اوراستدلال یوں کیاگیاہے کہ وصی موصی کے قائم مقام ہے اور ورثاء موصی کے پسماندگان ہیں توگویاوصی وارثوں کے قائم مقام ہوگیا لہٰذا وصیت والے شخص کے لئے اس کا وارثوں سے مقاسمہ کرنا صحیح ہے،اور وصیت والاشخص موصی کاجانشین نہیں لہٰذا وصی اس کے قائم مقام نہیں ہوگا تووصیت والے شخص سے وارثوں کے لئے اس کامقاسمہ جائزنہیں ہوگا،اوریہی معنی ہے اس کاجو کچھ جامع صغیر،ہدایہ،سراجیہ،خلاصہ،منیہ،غنیہ اور بنیہ وغیرہ میں ہے الخ(اختصارًا)۔(ت) |
مسئلہ ۱۵۵: ازجائس ضلع رائے بریلی محلہ غوریانہ خورد مرسلہ عبدالحمید صاحب معرفت حافظ علی بخش صاحب ساکن بریلی محلہ بہاری پور ۲جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مرحومہ نے اپنے دم واپسیں اپنے زیورات کے بارہ میں یہ وصیت کی کہ اس کو فروخت کرکے میرے نام کاایك چاہ بنوادیاجائے کہ جس میں مجھ کو ثواب ملے لیکن یہاں جامع مسجدمیں جب کثرت نمازیوں کی ہوتی ہے توصحن مسجدمیں بھی دوایك صفیں نمازیوں کی ہوجایاکرتی ہیں ایام گرما میں بوجہ تمازت آفتاب زمین بھی نہایت گرم رہتی ہے اوراوپر کی دھوپ اوربھی ان نمازیوں کے لئے جوصحن میں ہوتے ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع