30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الصبی فی کل شیئ مالم یکن بفاحش الغبن وکذا قسمۃ الجد الصحیح ووصیہ عند عدم الاب ووصیہ و کذا تجوز قسمۃ ھٰؤلاء علی الکبیر الغائب فی غیر العقار وکذا قسمۃ وصی نحوالام من العم وابنہ و الاخ وابنہ ان کانت(ای القسمۃ)فی عروض ترکۃ الموصی ولم یکن ھناك من ھو اقوی منہ من الاوصیاء [1] اھ باختصار۔ |
غبن فاحش کے ساتھ نہ ہویونہی جدصحیح اوراس کے وصی کی تقسیم جبکہ باپ اوراس کاوصی نہ ہوں،اسی طرح مذکورہ بالاحضرات کی تقسیم بالغ غائب پراس کی منقولہ جائدادمیں جائزہے یونہی ماں کے وصی کی تقسیم اس حصہ میں جونابالغ کو ماں کی طرف سے ملا۔یہی حکم چچا،اس کے بیٹے،بھائی اور اس کے بیٹے کے وصی کی تقسیم کا ہوگا جب کہ وہ تقسیم ترکہ موصی کے سامان میں جاری ہوا اوروہاں ان سے اقوٰی کوئی وصی موجودنہ ہو اھ(اختصار)(ت) |
اسی میں خانیہ سے ہے:
|
ان کانوا(ای الورثۃ)کبارا کلھم وبعضھم غائب فقاسم الوصی مع الحاضرین برضاھم وامسك انصباء الغائبین جازت قسمتہ۔[2] |
اگروہ وارث بالغ ہوں تمام یابعض غائب ہوں اوروصی حاضرین کی رضامندی سے ان میں میراث تقسیم کردے اور جو غائب ہیں ان کے حصے روك لے تویہ تقسیم جائزہوگی۔ (ت) |
اسی میں ہے:
|
فی جامع الصغیر،اذا قاسم(ای الوصی)للموصی لہ بالثلثفان کانت الورثۃ صغاراکلھم او غائبین فقاسمہ واعطاہ الثلث واملك الثلثین للورثۃ جاز مقاسمتہ و ان کان |
جامع الصغیرمیں ہے کہ جب وصی اس شخص کے لئے ثلث مال کامقاسمہ کرلے جس کے لئے وصیت کی گئی پھراگر تمام ورثاء نابالغ ہیں یاتمام غائب ہیں تو اس نے مقاسمہ کرکے تہائی مالوصیت والے کو دے دیا اوردوتہائی وارثوں کے لئے روك لیا تو اس کامقاسمہ جائز ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع