30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذالقیاس[1]۔ |
اس میں توجیہ یہ ہے تمام وصیتوں کوجمع کرکے ان وصیتوں اور میت کے مال کی ایك تہائی کو دیکھاجائے گاکہ وہ تہائی مال کرلو۔ (ت) |
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یایوں کریں کہ ہروصیت کوجونسبت مجموعہ وصایا سے ہے ہرایك کے لئے اتناہی حصہ ثلث سے دیں جووصیت مجموع وصایا کی نصف ہو اس کے لئے ثلث کا نصف دیں،اورجو ربع ہو اس کے لئے ربع،وقس علیہ،دونوں طریقوں کاحاصل ایك ہے اگرثلث کاحصہ دریافت کرنا ہوکہ اس میں سے فلاں وصیت کوکیاملے گا تویہ طریقہ کہ فقیرنے ذکرکیاعمل میں لائیں،اوراگروصیت کسی عین مثلًا گہنے یابرتن یامکان وغیرہ کی ہے معلوم کرناچاہیں کہ اس عین کا کتناحصہ دیاجائے گا تووہ پہلاطریقہ برتیں مثلًا پہلے طریقہ پرجونسبت(لع ؎صہ ۵/)کو(ماصہ لعہ)یادوسوآٹھ کوپانچ سوپچاسی بلکہ سولہ کوپینتالیس سے ہے اسی نسبت پر ہر وصیت دی جائے گی یعنی ہروصیت سے ۴۵ /۱۶ نافذکریں گے،چوڑیاں اورتوڑا اوربالی پتے ہرایك سے اتناہی حصہ جیٹھ کی نواسی کاہے اورہرایك سے ۴۵ /۲۹ وارثوں کا،اگران تینوں چیزوں کی قیمت(صہ ؎۶۵)ہے تو ان میں سے وصیت کاحصہ پانچ روپیہ پانچ آنے چار پائی ہوگی اوردوسرے طریقہ پرجبکہ ان کی قیمت(صہ عہ)ہے اورمجموع وصایا ۱۹۵ تویہ وصیت اس مجموع کاتیرہواں حصہ ہوئی توثلث یعنی(لعہ ؎ ۵ /۴)پائی کاتیرہواں حصہ اس کا نصیب ہوگا جس کے وہی(صہ ۵ /۴)پائی ہوئے۔______________________ یوں ہی دونوں حسابوں پرکارخیر کے لئے سوروپوں کی وصیت تھی اس کاحصہ پینتیس روپے پونے نوآنے ایك صحیح دوتہائی پائی(صہ۰۸/۔۱۔۳ /۲)پائی آئے گا اورفاتحہ کی وصیت اسی ۸۰ روپے میں رہی تھی اس کاحصہ اٹھائیس روپے سات آنے ایك صحیح ایك تہائی پائی(مہ عہ/ ۱۔۳/ ۱)پائی۔فاتحہ میں اس کے حصہ سے زائد اٹھادئیے مگرفاتحہ بھی جبکہ صرف مساکین پرصرف کی گئی کارخیرہے اورمجموعہ ان دونوں وصیتوں کے حصول کا جو کارخیر و فاتحہ کے لئے تھیں چونسٹھ روپے ہوئے ان میں سے چوالیس اُٹھ گئے اور اس نے سال بھرمیں اٹھانے کوکہاتھا وہ سال سے پہلے ہی اٹھادئیے اس میں بھی کچھ حرج نہ ہوا بلکہ جلدی ہی بہترتھی،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع