30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن الذخیرۃ،اذاجاء صبی بالکوز من ماء مباح لا یحل لابویہ ان یشربا منہ اذا کانا غنیین لان الماء صار مملوکا لہ ولایحل لھما الاکل من مالہ بغیر حاجۃ۔[1]واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
منقول ہے اگربچہ مباح پانی سے کوزہ بھرلائے تو اس بچے کے مالدارماں باپ کے لئے حلال نہیں کہ وہ اس کوزے سے پانی پئیں کیونکہ وہ پانی اس بچے کی ملکیت ہوگا اورماں باپ کو حاجت کے بغیربچے کامال کھانا حلال نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۵۴: ازشہرکہنہ قاضی ٹولہ مرسلہ قاضی محمدعیوض صاحب ۲۸ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ لاولد نے بحالت مرض سوروپے زیدکے پاس امانۃً جمع کئے اوروصیت کی کہ تندرست ہوگئی تویہ روپیہ لے کرحج کوجاؤں گی اوراگرمرگئی توتم کواختیار ہے کہ کسی کارخیر میں صرف کردینا اس میں سے میرے کسی رشتہ دارکو ایك حبّہ نہ دیاجائے،دوبارہ اس ماہ کے بعد سو روپے اور زید کے پاس جمع کئے اوروصیت کی کہ یہ رقم دوبارہ جمع شدہ بعد میرے مرنے کے تجہیز وتکفین اور ایك سال تك میری فاتحہ درودمیں خرچ ہوں اوررقم سابق جس کی وصیت کرچکی ہوں اس کارخیرمیں اٹھائی جائے اب وصیت سے ایك ماہ بعد مسماۃ کاانتقال ہوگیا(للعہ ؎)اس کی تجہیزوتکفین فاتحہ میں صرف ہوئے جس کو ابھی سال نہ ہوا(ماہہ)باقی ہیں اورپہلی رقم بجنسہٖ موجودہے کل(ما ؎)باقی ہیں ہندہ کی ایك ہمشیرہ حقیقی دوسری بھتیجی جس کاباپ بیس سال سے مفقودالخبرہے اورایك ہندہ کے شوہر ثانی کی لڑکی ہے وہ ہندہ کی دخترنہیں اب کس طرح تقسیم ہو؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
ہندہ کی بہن کے بیان سے واضح ہواکہ ہندہ نے ان روپوں کے سوا اتنی چیزیں اورچھوڑیں چوڑیاں (صہ/)توڑا(ص/)بالی پتے (صہ/)کڑے(؎)،پانچ برتن وزنی تخمینًا سوسیر،ان میں چوڑیاں اپنی موت سے آٹھ دن پہلے سے اپنے جیٹھ کی نواسی کودے دیں اورتوڑے اوربالی پتوں کی بھی اسی کے لئے وصیت کی،کڑوں اوربرتنوں میں کوئی وصیت نہ کی،اس کی تجہیزوتکفین میں بیس روپے اُٹھے اورچوالیس روپے کے کھانے پکواکر صرف مساکین کودئیے،ہندہ کابھائی جس وقت مفقود ہوا اس کی عمر چالیس سال تھی اورہندہ پرکوئی اعتراض نہیں برتقدیر صدق جملہ بیانات مذکوربیس روپے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع