30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسرے شخص کے واسطے بھرااس پانی سے بالغ شخص کووضوکرنا،پیناوغیرہ جائزہوگا یانہیں؟ اورہرشیئ نابالغ کی خریدی ہوئی یا لائی ہوئی کاشخص بالغ کو استعمال جائزہوگا یانہیں؟ اوروہ نابالغ خود اپنی اولاد ہویاغیر،سب کاایك حکم ہے یانہیں؟بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)نابالغ جس پانی کا مالك ہو خواہ یوں کہ اس نے اپنے یاکسی کے لئے کنویں سے بھرااورکنویں کی حد سے باہر نکال لیااس کے پاس برتن میں اپنی ملك پانی اس کنویں سے جداتھا اوروہ خود اس نے بخوشی یابجبرکنویں میں ڈال دیا یاکسی اورنے اس کی اجازت سے خواہ بے اجازت کنویں میں اُلٹ دیا غرض کسی طرح نابالغ کی مِلك پانی کنویں میں مل گیا تو اب جب تك اس میں وہ پانی رہے گااس بچہ کے سواکوئی کسی طرح اس کاپانی استعمال نہیں کرسکتا،اس میں بچہ کی ملك ملی ہوئی ہے اس کے ہبہ یامباح کر دینے کاکسی کواختیارنہیں،نہ اس کی بیع ممکن کہ بیع میں تسلیم پرقدرت شرط ہے ا وراس پرقبضہ دلاناممکن نہیں۔اشباہ میں ہے:
|
ملأ الصبی کوزا من حوض ثم صبہ فیہ لم یحل لاحد ان یشرب منہ۔[1] |
نابالغ بچے نے حوض سے کوزہ بھرا پھراسی میں انڈیل دیا تو کسی کے لئے حلال نہیں کہ اس سے پانی پیئے۔(ت) |
اس کاچارۂ کاریہ ہے کہ جتنا پانی اس نے کنویں میں ڈالا اُتنایا اس سے زائد بھرکر اس نابالغ کودے دیاجائے یا وہ خود بھرلے اس کے بعد باقی پانی مباح ہوجائے گا کماحققناہ علٰی ھامش الغنیۃ(جیساکہ غنیہ کے حاشیے میں ہم نے اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)کنویں کی مَن سے جب پانی باہرنکلتاہے بھرنے والے کی ملك ہوجاتاہے،نابالغ کی مِلك میں کسی کوتصرف کااختیارنہیں، ہاں ماں باپ کہ فقیرہوں بقدرحاجت تصرف کرسکتے ہیں،یہ کلیہ جوچیزنابالغ کی ملك ہو خواہ خریدکی ہوئی یاکسی طرح کی لائی ہوئی اس میں فقیر والدین کے سواکوئی تصرف نہیں کرسکتا اوراس کی ملك نہ ہو تو مالك کی اجازت سے تصرف ہوسکتا ہے۔
|
فی غمزالعیون عن شرح المجمع |
غمزالعیون میں بحوالہ ذخیرہ شرح المجمع سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع