30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سکنہ المرتھن ثم بان للغیر معداللاجارۃ فلاشیئ علیہ [1]اھ ملتقطا۔ |
سکونت پذیرہواہو جیسے وہ گھرجس میں اس کے شرکاء میں سے کوئی ایك سکونت اختیارکرے یاعقد کی تاویل کے ساتھ اس میں رہائش پذیرہو جیسے رہن کامکان جس میں مرتہن نے سکونت اختیارکی پھر ظاہرہواکہ وہ مکان کسی غیرشخص کا ہے جواجارہ کے لئے بنایاگیاہے تواس پرکچھ بھی ضمان نہیں ہوگا اھ (التقاط۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
قولہ الا فی المعد،افاد ان الاستثناء من قولہ اومعدا فقط وان الوقف ومال الیتیم یجب فیہ الاجر علی کل حال ولذا قدم الشارح انہ لو شری دارا وسکنہا فظہرت وقفا اولصغیر لزمہ الاجر صیانۃ لھما و قدمنا انہ المختار مع انہ سکنھا بتاویل ملك او عقد فاحفظہ فقد یخفی علی کثیر۔[2] |
ماتن کے قول"الافی المعد"(مگریہ اس کو بنایاگیاہو)نے اس بات کافائدہ دیاہے کہ استثناء فقط ماتن کے قول"معدا" سے ہے،اوریہ کہ بے شك وقف اورمال یتیم کسی صورت میں ہوبہرحال اجرت واجب ہوگی،اسی واسطے شارح پہلے بیان کرچکے ہیں کہ کسی نے کوئی گھرخریدا اس میں سکونت اختیارکی پھر ظاہرہواکہ وہ وقف ہے یا کسی نابالغ کاہے تو اس پراجرت لازم ہوگی ان دونوں کی حفاظت کے لئے۔اورہم نے پہلے بیان کیاکہ بیشك یہی مختارہے حالانکہ وہ مالك یاعقد کی تاویل کے ساتھ اس گھرمیں سکونت پذیرہوا۔اس کویاد کر لے۔تحقیق یہ بہت سے افراد پرمخفی ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
لزمہ اجرالمثل قال الحموی ھو مبنی علی تصحیح المحیط و ھوالذی ینبغی اعتمادہ وقال الشیخ شرف الدین |
اسے مثلی اجرت لازم ہے۔حموی نے کہاکہ وہ محیط کی تصحیح پرہے اور وہ وہی ہے جس پر اعتمادچاہئے۔شیخ شرف الدین نے کہا وہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع