30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعلیقہ بالشرط عینی [1]۔ |
جن کے ساتھ حلف جائزہولہذا ان کوکسی شرط کے ساتھ معلق کرنا جائزنہیں ہوگا۔(ت) |
پھر جب نصف مکان پسرزید کاٹھہرا اوراس میں عمرو نے اپنے روپے سے عمارت جدید بنائی مکان تقسیم کیاجائے جتنی عمارت عمرو حصہ پسر زید میں ہے عمرو پر لازم ہے کہ اپنی عمارت اس کے حصے سے اکھیڑ کر خالی کردے اور اگر اس میں زمین پسر زید کو نقصان کثیرپہنچے توپسرزیدکواختیارہوگا کہ وہ عمارت خود لے لے اوراس کی اتنی قیمت عمروکودے دے جواکھیڑے ہوئے عملہ کی ہوتی ہے اوراس میں سے اس کے اکھیڑنے کی اجرت مجراکرلے مثلًا یہ عمارت حالت موجودہ پرنرخ رائج سے ساٹھ روپے کی ہوتی ہے اوراکھیڑلی جائے تو ٹوٹا ہواعملہ تیس روپے کا رہ جائے اور دو روپے اس کے اکھڑوانے کی مزدوری میں صرف ہوئے توپسرزید اٹھائیس روپے عمرو کودے اورعمارت اپنی ملك کرلے۔ تنویرالابصارمیں ہے:
|
من بنی اوغرس فی ارض غیرہ بغیر اذنہ امر بالقلع والرد وللمالك ان یضمن لہ قیمۃبناء اوشجر امر بقلعہ ان نقصت الارض بہ۔[2] |
کسی شخص نے دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیربنادی یادرخت لگادئےے تواس کو درخت اکھیڑنے اور زمین واپس کرنے کاحکم دیاجائے گا،اور زمین کے مالك کواختیار ہے کہ وہ اس عمارت یادرخت جس کو اکھاڑنے کاحکم دیاگیاہے کی قیمت کا ضمان دے دے اگراکھاڑنے سے زمین کونقصان ہوتاہو۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
وھی اقل من قیتمہ مقلوعا مقدار اجرۃ القلع فان کانت قیمۃ الارض مائۃ و قیمۃ الشجر المقلوع عشرۃ واجرۃ القلع درھم بقیت تسعۃ دراھم فالارض مع ھذا الشجر |
اور اس قیمت میں اکھاڑی ہوئی عمارت یادرخت کی قیمت سے اکھاڑنے کی اُجرت کے برابرکمی کی جائے گی چنانچہ اگرزمین کی قیمت سودرھم ہواوراکھڑے ہوئے درخت کی قیمت دس درہم ہوجبکہ اکھاڑنے کی اجرت ایك درہم ہو تو اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع