30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والاصل ان المستحق بجھۃ اذ اوصل الی المستحق بجھۃ اخری اعتبرواصلا بجھۃ مستحقہ ان وصل الیہ من المستحق علیہ والافلاوتمامہ فی جامع الفصولین۔[1] |
ضابطہ یہ ہے کہ کسی شیئ میں ایك جہت سے استحقاق ثابت ہوا اور وہ کسی دوسری جہت سے مستحق تك پہنچ گئی تواس میں اسی جہت مستحقہ سے موصول ہونے کا اعتبار کیاجاتا ہے بشرطیکہ وہ شیئ مستحق تك اس شخص کی طرف سے پہنچتی ہو جس پراستحقاق ثابت ہوا ورنہ یہ حکم نہ ہوگا۔اس کی مکمل بحث جامع الفصولین میں ہے(ت) |
پھرجبکہ عمرونے بھتیجے کو دوسرامکان خریددیا اور اس کی قیمت اس روپے سے اداکی جو عمرو ہی کی ملك تھا تو یہ مکان عمرو کی طرف سے اس کوہبہ ہواقیمت کامطالبہ پسرزید سے نہ ہوگا۔ احکام الصغار پھرعقوددریہ میں ذخیرہ وتجنیس سے ہے:
|
امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالھا وقع الشراء للام لانھا لاتملك الشراء للولدوتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ۔[2] |
ایك عورت نے اپنے مال سے اپنی نابالغ اولاد کے لئے جائدادخریدی تو وہ خریداری ماں کے لئے واقع ہوگی کیونکہ وہ اولاد کے لئے خریداری کی مالك نہیں اور وہ جائداد اولاد کے لئے ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوئی۔(ت) |
پسرزید جوپچاس روپے عمروکو واپس کرنے کادعوی کرتاہے جب تك شہادت شرعیہ سے ثبوت نہ ہو مقبول نہیں،ہاں اگرگواہان عادل سے ثابت ہوجائے یاپسر زیدحاکم کے یہاں گواہ نہ دے اور عمروسے حلف مانگے اس پرعمرو حلف سے انکارکردے تویہ پچاس روپے عمروپر ثابت ہوجائیں گے اور ازانجاکہ پسرزیدنے اس گمان سے دئیے کہ یہ حق عمرہیں ان کی واپسی شرعًا مجھ پرلازم ہے حالانکہ واقع میں ایسانہ تھا تو یہ روپے بھی عمرو پسرزید کو واپس دے گا۔ خیریہ پھرحامدیہ میں ہے:
|
فی شرح النظم الوھبانی لشیخ الاسلام عبدالبر،ان من دفع شیئا لیس بواجب فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستھلکہ |
شیخ الاسلام عبدالبر کی تصنیف شرح النظم الوہبانی میں ہے اگر کوئی کسی کو ایسی شیئ دے جس کا دینا اس پرواجب نہیں تووہ اس شیئ کو واپس لے سکتاہے مگراس وقت نہیں لے سکتا جب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع