30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پورے دونے یادونے سے بھی زائدنے تھے جیساکہ یہی ظاہرہے تو صورت مذکورہ میں اسے بیع مکان کا اختیار اصلًا نہ تھا،وصی نابالغ کی جائدادغیرمنقولہ دوچند قیمت سے کم کوتوصرف معدودصورت ضرورت میں بیچ سکتاہے میت پرکوئی دین ایساہوکہ بغیر اس کے بیچے ادانہ ہوسکے گا یا اس نے کچھ روپوں کی ایسی وصیت کی کہ اسے بیچ ہی کرپوری ہوسکے گی یامکان گراجاتاخراب ہواجاتاہے اورمرمت کے لئے کچھ پاس نہیں یاکسی ظالم نے دبالیا ہے کہ نہ بیچے تومفت ہاتھ سے جائے یانابالغ کے کھانے پینے کو اس کے سواکچھ نہیں وہ جائداد یاکرایہ ومحصول کی چیزہے اوراس کی آمدنی اسی کو لگ جاتی ہے۔درمختارمیں ہے:
|
وجاز بیعہ عقار صغیر بضعف قیمتہ اولنفقۃ الصغیر اودین المیت اووصیۃ مرسلۃ لانفاذ لھا الامنہ او لکونہ نملاتہ لاتزید علی مؤنتہ اوخوف خرابہ او نقصانہ اوکونہ فی ید متغلب،دررواشباہ[1]۔ملخصًا |
وصی کے لئے جائزہے کہ وہ نابالغ کی غیرمنقولہ جائداد کو دگنی قیمت پریاصغیر کے نفقہ کے لئے یامیت کے قرض کی ادائیگی کے لئے یا اس کی ایسی وصیت مطلقہ کے نفاذ کے لئے بیچ دے جس وصیت کانفاذ اس جائداد کوبیچے بغیر نہیں ہوسکتا نیزاس جائداد کی پیداوار اس پرخرچ سے زائد ہو یا اس جائداد کے ویران ہونے یاناقص ہونے یاکسی جابرکے ہاتھ لگ جانے کا ڈرہوتوبھی اس کوبیچ سکتاہے،دررواشباہ(ملخصًا)(ت) |
ظاہرہے کہ یہاں ان صورتوں میں سے کچھ نہ تھا ان بلادمیں نہ ہرگز یہ امید ہے کہ نصف مکان جس میں پختہ عمارت بھی ہے صرف پچیس روپے یا اس سے بھی کم ہوتونظر بظاہرہوا کہ عمرو نے اپنانفع خیال کیااپنے لئے مکان خالص کرلیناچاہا اورجوقیمت اپنی خواہش کے موافق چاہی اس پرایك اجنبی سے جسے یتیم کاکیادرد ہوتا فیصلہ کرالیا اوراس کے عوض دوسرامکان یتیم کوخریددیا غرض صورمذکورہ میں مختار کو اس بیع کاکچھ اختیارنہ تھا تویہ بیع فضولی ہوئی اوروقت عقد اس کاکوئی اجازت دینے والانہ تھا کہ ان چند عُذروں کے سواجب خودوصی کواختیار بیع نہیں تو غیروصی بدرجہ اولٰی کہ فضولی جوایساعقد کرے جس کانافذ کرنا اس وقت کسی کامنصب نہ ہو وہ عقد محض باطل ہوتاہے۔درمختارباب الفصولی میں ہے:
|
کل تصرف صدرمنہ ولہ مجیز |
ہرتصرف جوفصولی سے صادرہو دراں حالیکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع