30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماخوذ ہے اوربعد اقرارکوئی تمادی مخل نہیں ہوتی،اگر سوبرس کے بعد کوئی اقرارکرے کہ یہ شیئ فلاں کی ملك ہے تو وہ اقرار اس مقرپرحجت ہوگا اورسوبرس گزرجانا کچھ خلل نہ ڈالے گا۔علامہ خیرالدین رملی استاد صاحب درمختار رحمہمااﷲ تعالٰی کے فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
دعوی تلقی الملك من المورث اقرار بالملك لہ ودعوی الانتقال منہ الیہ فیحتاج المدعی علیہ الی بینۃ وصار المدعی علیہ مدعیا وکل مدع محتاج الی بینۃ ینوربھما دعواہ ولاینفعہ وضع الید المدۃ المذکورۃ مع الاقرار المذکور ولیس من باب ترك المدعوٰی بل من باب المواخذۃ بالاقرار ومن اقر بشیئ لغیرہ اخذ باقرارہ،ولوکان فی یدہ احقابا کثیرۃ لاتعد وھذا مالایتوقف فیہ [1]۔ |
مورث سے ملك حاصل کرنے کادعوی مورث کی ملکیت کا اقرار اوراس سے ملکیت کے مقرکی طرف منتقل ہونے کادعوی ہے،چنانچہ مدعاعلیہ گواہ لانے کامحتاج ہوگا اورمدعاعلیہ مدعی بن جائے گا اورہرمدعی ایسی گواہی کامحتاج ہوتاہے جس کے ساتھ اس کادعوی روشن ہو۔اقرار مذکورکے ہوتے ہوئے مدت مذکورہ تك اس کاقبضہ اسے کچھ نفع نہیں دے گا۔یہ ترك دعوی کے باب سے نہیں بلکہ اقرار کے سبب مؤاخذہ کے باب سے ہے۔جس شخص نے غیرکے لئے کسی شیئ کا اقرار کیا اس کے اقرار کے سبب سے وہ شیئ اس سے لے لی جائے گی اگرچہ وہ بے شمار اس کے قبضے میں رہی ہو اوریہ ایسامسئلہ ہے جس پرتوقف نہیں کیاجاتا۔(ت) |
ذریعہ انتقال جوعمرو نے بتایا کہ مختارپدرسے بیعنامہ کرالیامحض باطل وبے اثرہے اول توزید کی زندگی میں اس کامختارہونازید کے بعد اس کی اواد پروصی ہونا نہیں زید کے مرتے ہی وکالت ختم ہوگئی۔تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
|
ینعزل الوکیل بموت احدھما۔[2] |
دونوں میں سے کسی ایك کی موت کے سبب سے وکیل معزول ہوجاتاہے(ت) |
اوراگرثابت بھی ہوکہ یہ مختاروصی بھی تھا تواگریہ پچاس روپے اس نصف مکان کی واقعی قیمت کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع