30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتاہے اوربرادرزادہ یہ بیان کرتاہے کہ وہ پچاس روپے جس سے مجھ کومکان چچاعمرونے خریدکردیاتھا وہ میں نے ۱۷برس ہوئے کہ واپس چچا صاحب کو دے دئے ہیں اورچچایہ کہتے ہیں کہ ہم نے واپس نہ لئے تھے اوراس امرکا طرفین سے کوئی گواہ دیدہ موجودنہیں ہے شنیدہ معتبرنہیں۔اب یہ معاملہ پنچایت میں پیش ہے،اب دریافت طلب یہ امرہیں:
(۱)جوبیعنامہ مختارنے نابالغ کی طرف سے کردیاوہ بیع درست ہوئی یانہیں؟
(۲)اگربیع درست نہ ہوئی تونصف حصہ چچاونصف حصہ برادرزادہ کاہوگایانہیں؟
(۳)جوچچانے بعدخریدلینے مکان متروکہ کے(ماصہ)کی تعمیراپنی لاگت سے کی وہ اس کو ملناچاہئے یانہیں؟
(۴)۳۲ برس سے جوچچاصاحب نے اس مکان متروك میں خالصًا سکونت کی ان کاکرایہ نصف کاحقدار برادرزادہ ہے انہیں؟
(۵)جوبرادزادہ بیان کرتاہےکہ میں نے چچاکوپچاس روپیہ واپس دے دئیے ہیں اگرچچا حلف اٹھالیں تو میں مکان سے دست بردارہوتاہوں ورنہ میں حلف اٹھاتاہوں اس صورت میں کس کاحلف معتبرہے اورکس کو حلف دلایاجائے؟
(۶)اگربیعنامہ مذکورہ ۱جائزتسلیم ہو اوربرادرزادہ نے پچاس روپے کاحلف کیاہو تو اس کو پچاس روپے ہی دلائے جائیں گے یاکیا ہوگا کیونکہ جب مکان کی بیع جائزہوچکی ہو؟
(۷)اگرمکان کی بیع ناجائز ہے توبعد حلف برادرزادہ کے نصف حصہ مکان برادر زادہ کاقرارپائے گایانہیں اوربابت لاگت اور کرایہ مکان کیاعمل درآمدہوگا؟
مسائل متذکرہ بالا میں نہایت جھگڑے اورفساد واقع ہیں لہٰذا موافق شرع شریف ارشاد فرمادیجئے اجرعظیم وثواب دارین ہوگا۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ! حق اوردرستگی کی ہدایت عطافرما۔ت)مکان ۳۴برس سے عمرو کے قبض وتصرف میں ہے اورپسر زید کوبالغ ہوئے بھی بیس برس سے زیادہ زمانہ گزرا اوروہ اتنی مدت مدید تك ساکت رہا یہ اگرچہ اسے مستلزم ہوتاکہ اب پسرزید کا دعوی نہ سناجاتا مگرجبکہ عمروتسلیم کرتاہے کہ واقعی یہ نصف مکان پسر زید کی ملك کا اقرار اوراس سے اپنی طرف انتقال ملك کادعوی ہوا اورکوئی دعوٰی بے دلیل مقبول نہیں اورہرمقراپنے اقرارپر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع