30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۵۰: ۳۰/ذی الحجہ ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس امرمیں کہ زیدنے ایك مکان بحالت مرض الموت بی بی کے کہنے سے بی بی کے نام بعوض دوسو روپے مہرکے منتقل کردیاتھا حالانکہ قبل اس کے بی بی نے مہرمعاف کردیاتھا اوربی بی نے اس غرض سے مکان منتقل کرایاتھا کہ قرضہ سے بچ جائے_____________________زید اس تحریر کے تیسرے روزمرگیا اورایك لڑکا ایك لڑکی اور بی بی چھوڑے، اول بی بی نے سواسوروپے میں رہن رکھا اوراب فروخت کرتی ہے اورلڑکا لڑکی بدستور قابض ودخیل ہیں،ایسی صورت میں کہ کس قدرحصہ پاسکتے ہیں اوریہ انتقال زیدکاکیاحکم رکھتاہے؟بینواتوجروا۔
الجواب:
انتقال کی یہ غرض اگرثا بت ہوتو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انتقال فرضی ہواور جب زیداقرارکررہا ہے کہ اس پرزوجہ کامہرباقی ہے اور اس کے عوض میں یہ جائداد دیتا ہے تواس کے وارثوں کادعوٰی کہ عورت پہلے اپنا مہرمعاف کرچکی ہے تھی مسموع نہیں۔فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
رجل اقر لامرأتہ بمھر الف درھم فی مرض موتہ و مات ثم اقامت الورثۃ البینۃ ان المرأۃ وھبت مھرھا من زوجہا فی حیاۃ الزوج لاتقبل والمھر لازم باقرارہ وکذا فی الخلاصۃ۔[1] |
کسی شخص نے مرض الموت میں اپنی بیوی کے لئے ایك ہزار درہم مہرکا اقرارکیااور وہ مرگیا پھر اس بات پرگواہ قائم ہوگئے کہ عورت نے شوہر کی زندگی میں اپنا مہرشوہر کوہبہ کردیاتھا تو یہ گواہ قبول نہیں کئے جائیں گے اورشوہر کے اقرار کی وجہ سے مہرلازم ہوگا۔خلاصہ میں یونہی ہے۔(ت) |
مگرجبکہ مہرروپے تھے ان کے عوض مکان دینا بیع ہے اورزید کومرض الموت تھا اورعورت اس کی وارث ہے اوروارث کے ہاتھ مریض کاکوئی چیزبیچنا اگرچہ برابرقیمت کوہو بے اجازت دیگرورثہ کے باطل ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
|
اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ |
مریض نے مرض الموت میں اپنے وارث کاہاتھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع