30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولك ان تجیب عن فرع الرھن بانہ لیس تملکا ولا اھلاکًا فلایقاس علیہ الاسقراض ولااداء دین نفسہ من مال الصبی،اما لزوم الضمان فی الرھن فحکم الھلاك العارض و فی صورۃ المقاصۃ ایضا انما صدرمنہ البیع وھو سائغ لہ والمقاصۃ وقعت لان الحقوق ترجع الیہ وکم من شیئ یثبت ضمنا ولا یثبت قصدا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
علیہ الرحمہ کامذہب ہے۔میں کہتاہوں تو رہن والی فرع کا جواب یوں دے سکتاہے کہ وہ نہ توتملك ہے اورنہ ہلاك کرنا، لہذا اس پرقرض لینے اور مال صغیر سے اپناقرض اداکرنے کو قیاس نہیں کیاجاسکتا۔رہارہن میں ضمان کالازم ہونا تو وہ ہلاك عارض کاحکم ہے اوربدل واقع ہونے والی صورت میں بھی بیع تو اس سے اس حال میں صادرہوئی کہ وہ اس کے لئے جائز تھی اورثمن کاقرض کے لئے بدل واقع ہونا اس لئے ہے کہ حقوق بائع کی طرف لوٹتے ہیں اور بہت سی اشیاء ضمنًا ثابت ہوتی ہیں اورقصدًا ثابت نہیں ہوتیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
نیزادب الاوصیاء فصل اباق میں ہے :
|
فی المنتقی یجوز للوصی شراء مال الیتیم لنفسہ وبیعہ مال نفسہ من الیتیم فاذا رفع ذٰلك الی القاضی ان رأی خیراابرمہ والزمہ والافسخہ ونقضہ قال ومثلہ بیع الاب وشرائہ حیث یکون للقاضی فسخہ ان لم یکن خیراللیتیم یعنی الابن لکن عدم الخیریۃ فی الاب کونہ ناقصا عن ثمن المثل نقصانا لایتغابن فیہ الناس[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
منتقی میں ہے وصی کے لئے جائزہے کہ وہ مال یتیم کواپنے لئے خریدے یا اپنامال یتیم پربیچے پھر جب یہ معاملہ قاضی کے پاس پہنچے تو اگروہ اس میں بھلائی دیکھے تو اس کوپکااور لازم کر دے ورنہ اس کوفسخ کردے، اور اسی کی مثل باپ کی خریدو فروخت ہے،اگر وہ یتیم بیٹے کے حق میں خیرنہ ہوتو قاضی ا س کو فسخ کرنے کا اختیار رکھتاہے لیکن باپ کی صورت میں خیرکانہ ہوتاتب ہوگاکہ جب وہ خریدوفروخت ثمن مثلی سے اس قدرکم ہو جس قدرکمی کاغبن لوگوں میں رائج نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع