30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قدر مایصیر مؤدیا منہ دینہ ومثلہ فی ھذا کلہ الوصی[1] (ملخصًا) |
رکھے پھراگر وہ رہن ہلاك ہوگیاتو یہ اس کاضامن بنے گا،اور ان سب صورتوں میں وصی باپ کی مثل ہے(ملخصًا) (ت) |
اسی میں ہے:
|
فی الخلاصۃ ورھن القوانسی ومختارات النوازل لوباع الوصی مال الصبی اوالاب من غریم نفسہ تقع المقاصۃ بینھما ویضمن الصبی الثمن عند الطرفین و لایقع عند ابی یوسف وکذا الحکم فی بیع الاب[2]۔ |
خلاصہ،رہن القوانس ااورمختارات النوزل میں ہے اگر وصی یا باپ نے مال صغیر کو اپنے قرض خواہ کے ہاتھ بیچ دیا توثمن اس قرض کا بدل واقع ہوگا،اور وہ وصی یاباپ صغیر کے لئے ثمن کے ضامن ہوں گے۔یہ طرفین کے نزدیك ہے۔امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیك وہ بدل واقع نہیں ہوگا،یہی حکم باپ کی بیع کی صورت میں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
فی فتاوٰی الدیناری الوصی اذا باع مال الیتیم باجل جاز ومثلہ الاب وفی الخلاصۃ والمنیۃ،للوصی البیع بالنسیئۃ ان لم یخف تلفہ بالحجود والانکار ولا المنع عند حصول الاجل وانقجائہ ولم یکن الاجل بعیدافاحشا ذکرہ فی کل من الولوالجیۃ والخانیۃ[3] اھ۔ اقول: وبما مر |
فتاوی دیناری میں ہے کہ وصی اگرمال یتیم کو ایك مدت تك ادھار پربیچ دے توجائز ہے اورباپ بھی اسی کی مثل ہے۔ خلاصہ اور منیہ میں ہے وصی کوادھار پربیع کرناجائزہے اگریہ خوف نہ ہو کہ مال بسبب انکار کے ضائع ہوجائے گا اورنہ یہ ڈر ہوکہ مدت گزرجانے کے باوجود مشتری ثمن نہیں دے گا اور نہ ہی وہ مدت بہت زیادہ لمبی ہوگی۔یہ تمام ولوالجیہ اورخانیہ سے منقول ہے اھ۔میں کہتاہوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع