30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلاصہ میں ہے:
|
لیس للوصی اقراض مال الصبی ولااستقراضہ وعن محمد لہ الاستقراض کالاب[1] اھ اقول:وظاھر قولہ کالاب الاتفاق علی ان للاب الاستقراض غیر ان محمدا ربما استشھد بخلافیۃ علی اخری تنبیھا علی منازع الاقوال۔ |
وصی کے لئے مال صغیر کو قرض پردینا اور اس کو قرض پرلیناجائز نہیں۔اورامام محمد کے نزدیك اس کو قرض پرلیناجائزہے جیساکہ باپ کے لئے جائزہے اھ میں کہتاہوں کہ اس کاقول"کالاب" (مثل باپ کے)ظاہرًا اس پردلالت کرتاہے کہ باپ کے لئے مال صغیر کوقرض پرلینے کے جوازپر اتفاق ہے سوائے اس کے کہ امام محمدعلیہ الرحمہ دوسری صورت کے اختلاف ہونے پراستشہاد کرتے ہیں اقوال کے مختلف ہونے پرتنبیہ کرنے کے لئے۔(ت) |
ادب الاوصیاء میں عبارت مذکورہ کے بعد ہے:
|
وفی قضاء الجامع،اخذ الاب مال صغیر قرضا جاز وفی الخلاصۃ،انہ ذکر فی رھن الاصل ان الاب یضمن کالوصی[2]۔ |
جامع کے باب القضاء میں ہے باپ کامال صغیر کوبطور قرض لیناجائز ہے۔خلاصہ میں ہے کہ اصل کے باب الرہن میں امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایا:بیشك باپ وصی کی طرح ضامن ہوگا(ت) |
اسی کی فصل الاباق میں شرح مختصرالطحاوی للامام الاسبیجابی سے ہے:
|
للاب ان یدفعہ(ای مال الصغیر)الی غیرہ مضاربۃ اوبضاعۃ وان یضارب ویبضع بنفسہ،وان یودع مالہ عند انسان وان یعیر لاحد استحسانا لاقیاسا و وان یرھن مالہ بدین نفسہ فلوھلك الرھن یضمن |
باپ کو اختیار ہے کہ وہ مال صغیر کسی غیرکوبطور مضاربت و بضاعت دے دے،اورخود بھی اس کوبطور مضاربت و بضاعت لے سکتا ہے اوریہ بھی اسے اختیارہے کہ وہ مال صغیر کسی کے پاس ودیعت رکھے یاکسی کوبطور عاریت دے دے یہ بطوراستحسان ہے نہ کہ بطورقیاس۔اور یہ کہ وہ مال صغیر کو اپنے قرض کے بدلے میں رہن |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع