30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یك رومال دے کربھی بیع ہوسکتی ہے فقط باہمی رضادرکار ہے۔ہندیہ میں محیط سے ہے:
|
وکان الوصی قسم بین الورثۃ وعزل نصیب کل انسان فھذا علی خمسۃ اوجہ الاول ان تکون الورثۃ صغاراکلھم لیس فیھم کبیر وفی ھذا لوجہ لاتجوز قسمتہ اصلا وھذا بخلاف الاب اذا قسم مال اولادہ الصغار ولیس فیھم کبارفانہ یجوز(ثم قال)الرابع اذاکانوا صغار اوکبارافعزل نصیب الکبار وھم حضورفدفعہ الیھم وعزل نصیب الصغار جملۃ ولم یفرز نصیب کل واحد من الصغار جاز[1]۔ |
اگروصی نے وارثوں میں میراث تقسیم کی اورہروارث کاحصہ الگ کردیا توا س میں پانچ صورتیں ہیں پہلی صورت یہ ہے کہ تمام وارث نابالغ ہوں ان میں سے کوئی بھی بالغ نہ ہو۔ ایسی صورت میں اس کی تقسیم بالکل جائزنہیں بخلاف باپ کے کہ اگر وہ اپنی نابالغ اولاد کامال تقسیم کردے جن میں کوئی بالغ نہ ہوتوجائزہے(پھرفرمایا)چوتھی صورت یہ ہے کہ وارثوں میں بالغ بھی ہوں اورنابالغ بھی ہوں،پھراس نے بالغوں کاحصہ الگ کرکے ان کو دے دیا جبکہ تمام بالغ ورثا حاضر ہیں اورنابالغوں میں سے ہرایك کا حصہ الگ الگ نہ کیا توجائزہے۔(ت) |
تنویرالابصارمیں ہے:
|
بیع الاب مال صغیر من نفسہ جائز بمثل القیمۃ وبما یتغابن فیہ[2]۔ |
باپ اگرنابالغ کے مال کی بیع اپنی ذات سے کرے تومثلی قیمت کے ساتھ اورمعمولی غبن کے ساتھ جائزہے۔(ت) |
والوالجیہ وجامع الفصولین وادب الاوصیاء میں ہے:
|
للاب شراء مال طفلہ بیسیر الغبن لابفاحشۃ[3]۔ |
باپ کے لئے جائزہے کہ وہ اپنے نابالغ بیٹے کامال تھوڑے سے غبن کے ساتھ خریدلے نہ کہ زیادہ غبن کے ساتھ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع