30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۴۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر وارثان مذکورحاضرین جلسہ مرقومہ استفسار نمبراول مندرجہ سوال سوم جواپناحق وراثت لینے سے انکار کرچکے ہیں اور اس کو ادائے فدیات وصدقات کرنے کی اجازت دے چکے ہیں اگروہ اپنے قول سے رجوع کرکے اپناحق وراثت لینے کی خواہش کریں توایسی شکل میں کیا وہ اپنا حق وراثت پانے کے مستحق ہوسکتے ہیں یانہیں؟
الجواب:
جواب سوال اول میں معلوم ہولیاکہ بہن بھائیوں کا اس میں کوئی حق نہیں اورباپ اپنی اجازت سے نہیں پھرسکتا کہ وہ وصیت کی اجازت تھی اور وارث جب بعد موت مورث وصیت کوجائزکردے اس سے پھر رجوع کرنے اوراپناحق وراثت مانگنے کا اختیارنہیں رکھتا شوہر رجوع کرسکتاہے کہ اس کے حق کے متعلق وصیت نہ تھی وہ اجازت اس کی اپنی خوشی سے تھی جس پرقائم رہے تومحبوب ومندوب ہے ورنہ جبر نہیں۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان ہے دنیائے ناپائیدار سے رحلت کی اورپندرہ اشرفی قیمتی دوسوپچیس روپے کی صندوقچی میں سے بعد مردن کے برآمدہوئیں اوراس کے برادرحقیقی نے اپنے پاس رکھیں کہ متوفی کے سالے کی بی بی نے ظاہرکیاکہ متوفی نے اس روپیہ کے بارہ میں مجھ سے وصیت کی ہے کہ دفع مذکورہ میرے فوت کے بعد حسب تفصیل ذیل خرچ کردینا کہ مبلغ دس روپیہ ہرنوچندی جمعرات کو دس جمعرات تك بقدر سوروپیہ کے فاتحہ میں میری صرف کردینا بالقصہ مبلغ ایك سوپچیس کہ کسی مرد مسلمانوں کودے کرواسطے حج بدل کے بھیج دینا یہ رقم برآمد شدہ مجھ کو دے دو چنانچہ حوالے بی بی موصوفہ کے وہ روپیہ کردئیے گئے اب سوائے بی بی موصوفہ کے وصیت کاکوئی گواہ مرد یاعورت نہیں ہے دوسری ایك بات قابل ظاہرکرنے کی اورہے ایك وصیت نامہ جوکہ متوفی نے اپنی حیات میں مع ساڑھے روپیہ کے بنام اراکین برادری کے تحریرکیاہے اس میں بھی کچھ ذکربی بی صاحبہ کی وصیت کا نہیں ہے اب وہ رقم مذکورہ بی بی صاحبہ موصوفہ کوحوالہ ورثہ کردیناجائز ہے یانہیں اور ورثاء اس رقم کولے سکتے ہیں یانہیں؟ کیاحکم شرع شریف کاہے،خلاصہ دعوی ورثہ متوفی بی بی صاحبہ موصوفہ غیرکفوناخواندہ ہیں جدی نہیں ہیں،تنہاعورت کابیان قابل یقین ہے یانہیں،بی بی صاحبہ بیوہ ہیں ورثاء سے کوئی تعلق نہیں،وصیت نامہ میں کوئی ذکروصیت بی بی صاحبہ کانہیں ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع