30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نابالغہ اورماں کے خورد ونوش میں صرف ہوئے خواہر کتخذا اس صرف سے علیحدہ تھی اورباغ بیچ کر صرف اس خواہر کتخذا کی شادی میں صرف ہو ا اور اس سے بھی کام نہ چل سکتاکہ وہ صرف اسی روپیہ کو بکا اس میں سے اس کا جہاز عــــــہ اور معمولی ضروری مصارف نہ ہوسکتے تھے اس کے لئے بکر نے قرض لیا اور قرض میں اس سے مجرالینے کی نیت نہیں اورنکاح میں ضرورت خرچ سے زیادہ نہ اٹھایا اور زیدنے اپنے انتقال سے تھوڑی دیرپہلے اپنی زوجہ ان بچوں کی ماں سے کہا تم فکرنہ کروبلکہ بکر ایسا نہیں کہ تمہیں تکلیف پہنچنے دے اسے میں چھوڑے جاتاہوں یہ تم کو کسی وقت دغانہ دے گا اگریہ یہاں ثابت ہو جب تو ظاہر ہے کہ زیدنے اپنے بڑے بیٹے بکرکو اپنی اولادوجائداد پروصی کردیا اوران سے ان تمام تصرفات کاجو وصی کے لئے ثابت ہوتے ہیں اختیار ملااوراگریہ ثابت نہ بھی ہو جب بھی ہمارے بلاد میں ایسی صورت میں بڑا بیٹا لائق ہونہار حکمًا وصی ہوتاہے۔
|
ھذا ھوالثابت دلالۃً والثابت دلالۃ کالثا بت لفظًا وقد حققناہ بتوفیق اﷲ تعالٰی فی فتاوٰنا بما لا مزید علیہ۔ |
یہ وہ ہے جوبطور دلالت ثابت ہے اورجوبطور دلالت ثابت ہو اس کی مثل ہے جوصراحۃً لفظ کے ساتھ ثابت ہو۔اس کی تحقیق اﷲ تعالٰی کی توفیق سے ہم نے اپنے فتاوٰی میں کردی ہے جس پراضافہ کی گنجائش نہیں۔(ت) |
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
|
لوان رجلا من اھل السکۃ تصرف فی مال المیت فی البیع والشراء ولم یکن لہ وارث ولاوصی الا ان ھذا الرجل یعلم انہ لورفع الامر الی القاضی ینصبہ وصیافاخذھذا الرجل المال ولم یرفع الامر الی القاضی وافسدہ حکی عن ابی نصر الدبوسی رحمہ اﷲ تعالٰی انہ کان یجوز تصرف ھذا الرجل۔[1] |
اگراہل محلہ میں سے کسی شخص نے میت کے مال میں بیع و شراء وغیرہ کا تصرف کیاجبکہ اس میت کا نہ تو کوئی وارث ہے اورنہ ہی وصی،لیکن وہ شخص جانتاہے کہ اگر معاملہ قاضی کے پاس لے جائے تو قاضی اس کو وصی مقررکردے گا،اس شخص نے میت کامال لے لیا اورقاضی کے پاس معاملہ نہ لے گیا اوراس مال کوبرباد کردیا۔امام ابونصردبوسی علیہ الرحمۃ سے منقول ہے کہ وہ اس شخص کے تصرف کوجائزقراردیتے تھے(ت) |
عــــــہ:یعنی جہیز۱۲ ازہری غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع