30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حالت مرض کے نہ ہوں گے کہ بحال غلبہ خوف نہ تھے اگرچہ ان سے قبل وبعد غلبہ تھا۔ ردالمحتارمیں ہے:
|
فی نورالعین،قال ابواللیث کونہ صاحب فراش لیس بشرط لکونہ مریضا مرض الموت بل العبرۃ للغلبۃ والغالب من ھذا المرض فھو مرض الموت وان کان یخرج من البیت وبہ کان یفتی الصدر الشھید ثم نقل عن صاحب المحیط انہ ذکر محمد رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ فی الاصل مسائل تدل ان الشرط خوف الھلاك غالبا لاکونہ صاحب فراش [1] اھ۔ |
نورالعین میں ہے:ابواللیث نے کہاکہ مریض کاصاحب فراش ہونا اس کے مرض الموت کے مریض ہونے کے لئے شرط نہیں بلکہ اعتبارغلبہ کا ہے،اوراس کابیماری سے غالب گمان موت کا ہوتو وہ مرض الموت ہوگی اگرچہ وہ گھر سے نکلتاہو،اوراسی کے ساتھ صدر الشہید فتوٰی دیتے تھے۔پھرصاحب محیط سے منقول ہے کہ بیشك امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اصل میں کچھ ایسے مسائل ذکر فرمائے ہیں جواس بات پردلالت کرتے ہیں اس بیماری میں ہلاکت کے خوف کاغالب ہوناشرط ہے نہ کہ مریض کاصاحب فراش ہونا اھ(ت) |
تبیین الحقائق میں ہے:
|
ان صارصاحب فرش بعد التطاول فھو کمرض حادث حتی تعتبر تصرفاتہ من الثلث [2]اھ۔ |
اگر وہ بیماری کے لمباہونے کے بعد صاحب فراش ہوا تو وہ نوپید بیماری ی مثل ہے یہاں تك کہ تہائی مال میں اس کے تصرفات معتبرہوں گے اھ(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
حاصلہ انہ ان صار قدیما بان تطاول سنۃ ولم یحصل فیہ ازدیاد فھو صحیح امالومات حالۃ الا زدیاد الواقع قبل التطاول اوبعدہ فھو مریض[3]۔ |
اس کاخلاصہ یہ ہے کہ اگربیماری پرانی ہوگئی بایں صورت کہ سال کومحیط ہوگئی اور اس میں بیماری کی شدت حاصل نہیں ہوئی تو وہ صحت مند ہوگا۔لیکن اگر وہ بیماری کی شدت کی حالت میں مرگیا چاہے وہ شدت بیماری کی طوالت سے پہلے واقع ہوئی یا اس کے بعد تو وہ مریض قرارپائے گا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع