30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتارمیں ہے:
|
قولہ لاطارئ اقول منہ مالووھب دارا فی مرضہ ولیس لہ سواھا ثم مات و لم یجز الورثۃ الھبۃ بقیت الھبۃ فی ثلثھا وتبطل فی الثلثین کما صرح بہ فی الخانیۃ [1]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ماتن کاقول"کہ اس پرطاری نہ ہو"میں کہتاہوں اگر کسی نے مرض الموت میں اپنامکان ہبہ کردیا اورسوائے اس مکان کے اس کی ملکیت میں کچھ نہیں،پھروہ مرگیا اوروارثوں نے ہبہ کی اجازت نہ دی توہبہ اس کے ایك تہائی میں باقی رہے گا جبکہ دوتہائی میں باطل ہوجائے گا،جیساکہ خانیہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۴۲:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرض الموت کی کیا تعریف ہے اورکس کس مرض پر اس کااطلاق ہوتاہے اورکب تك اس کی مدت مقرر ہے کہ قبل اس کے مرض الموت نہ کہاجاسکے۔
الجواب:
شرعًا کسی مرض کے مرض الموت ہونے کے لئے دو۲باتیں درکارہیں کہ وہ دونوں جمع ہوں تو مرض الموت ہے اور ان میں ایك بھی کم ہو تو نہیں۔
(۱)اس مرض میں خوف ہلاك واندیشہ موت قوت وغلبہ کے ساتھ ہو،اگراصلًا خوف موت نہیں یا ہے توضعیف ومغلوب ہے تومرض موت نہیں اگرچہ اتفاقًا موت واقع ہوجائے۔
(۲)اس غلبہ خوف کی حالت میں اس کے ساتھ موت متصل ہواگرچہ اس مرض سے نہ مرے موت کاسبب کوئی اورہوجائے مثلًا زیدکوہیضہ یاطاعون ہو اورابھی اسے انحطاط کافی نہ ہواتھا خوف ہلاك غالب تھا کہ سانپ نے کاٹا مرگیا یاکسی نے قتل کردیا تو ز اس مرض میں جوتصرفات کئے وہ مرض الموت میں تھے اگرچہ موت اس مرض سے نہ ہوئی اوراگر انحطاط کافی ہوگیاتھا کہ غلبہ خوف ہلاك جاتارہا اوراب اتفاقًا اسی مرض خواہ دوسرے سبب سے مرگیا تووہ تصرفات مرض کے نہ تھے اگرچہ حال اشتداد ہی میں کئے ہوں کہ انحطاط مرض وزوال خوف نے اسے مرض الموت نہ رکھا یوں ہی اگربحال انحطاط وعدم خوف تصرفات کئے اوران کے بعد پھر اشتداد ہوکرخوف غالب اورہلاك واقع ہواتو یہ تصرفات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع