30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قبض الموھوب لہ قبل موت الواھب کذا فی المحیط[1]۔ |
اور وہ تہائی مال ہے،جب یہ تصرف عقد کے اعتبارسے ہبہ قرارپایا تواس کے لئے ہبہ کی تمام شرطوں کاپایاجانا شرط ہوگا اورہبہ کی شرطوں میں سے ایك یہ ہے کہ واہب کی موت سے پہلے وہ شخص اس پرقبضہ کرلے جس کے لئے ہبہ کیاگیاہے،محیط میں یونہی ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
لاتجوز الوصیۃ للوارث عندنا الا ان یجیزھا الورثۃ ولاتعتبراجازتھم فی حیات الموصی حتی کان لھم الرجوع بعد ذٰلك کذا فی فتاوی قاضی خان و لایمنع الشیوع صحۃ الاجازۃ،ولو اجاز البعض وردالبعض یجوزعلی المجیز بقدر حصّتہ وبطل فی حق غیرہ کذا فی الکافی،والاجازۃ انما یجوز اذا اجازہ وھو عاقل بالغ صحیح کذا فی خزانۃ المفتین۔[2] اھ مختصرًا۔ |
ہمارے نزدیك وارث کے لئے وصیت جائزنہیں سوائے اس کے کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں اوران کی اجازت موصی کی زندگی میں معتبرنہیں ہوگی یہاں تك کہ وہ اجازت کے بعد رجوع کرسکتے ہیں۔یونہی فتاوٰی قاضیخان میں ہے۔ اورغیرمنقسم ہونا اجازت کے صحیح ہونے سے مانع نہیں ہوتا، اگربعض وارثوں نے اجازت دے دی اوربعض نے رَد کردیا تو اجازت دینے والے پر اس کے حصہ کے مطابق جائزہوگی اور اس کے غیرکے حق میں باطل ہوگی،کافی میں یونہی ہے۔ اجازت اسی وقت ہوگی جب اجازت دینے والا عاقل بالغ صحت مند ہو،خزانۃ المفتین میں یونہی ہے اھ (اختصار)۔ (ت) |
درمختارمیں ہے:
|
المانع عن تمام القبض شیوع مقارن للعقد لا طاری[3]۔ |
قبضہ کی تمامیت سے مانع وہ شیوع ہے جو عقد کے ساتھ مقترن ہونہ کہ وہ جو اس پر طاری ہو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع