30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المیم موت احد العاقدین بعدالتسلیم فلوقبلہ بطل[1]۔ |
میم سے مرادیہ ہے کہ سپردگی کے بعد واہب اور موہوب لہ میں سے کسی ایك کامرجانا،اگرسپردگی سے پہلے مرگیا توعقد ہبہ باطل ہوگیا۔(ت) |
اوراگرحیات واہب میں باذن واہب قبضہ کاملہ یاشیئ غیرقابل تقسیم پرمشاعًا قبضہ ہولیا تو اب اس ہبہ کانفاذ موت واہب کے بعد اجازت صحیحہ باقی ورثہ پر موقوف ہے صحت اجازت کے لئے اجازت دہندہ کاعاقل بالغ ہونا ضرورہے اگر باقی وارث سب عاقل بالغ ہیں اورسب نے بعد موت مورث اس ہبہ کوجائز رکھاتمام وکمال نافذہوجائے گا اوراگربعض نے اجازت دی اور بعض نے نہ مانایا بعض اجازت دہندہ نابالغ یا مجنون تھے توصرف اسی عاقل بالغ مجیز کے حصے کے قدرنفاذ پائے گا باقی نافذنہ ہوگا اورہبہ شیوع کہ بعض ورثہ کی عدم اجازت سے پیداہوا باقی میں نفاذہبہ کومنع نہ کرے گا کہ شیوع وہ مبطل ہبہ ہے جوابتدا سے ہونہ شیوع طاری کہ بعد کولاحق ہو۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
قال(ای محمدرضی اﷲ تعالٰی عنہ)فی الاصل ولاتجوز ھبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت جازت من الثلث واذامات الواھب قبل التسلیم بطلت یجب ان یعلم بان ھبۃ المریض ھبۃ عقد او لیست بوصیۃ واعتبارھا من الثلث ماکانت لانھا وصیۃ معنی لان حق الورثۃ یتعلق بمال المریض و قدتبرع بالھبۃ فیلزم تبرعہ بقدر ماجعل الشرع لہ وھوالثلث واذاکان ھذا التصرف ھبۃ عقدا شرط لہ سائر شرائط الھبۃ ومن جملۃ شرائطھا |
امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اصل میں کہاکہ مریض کاہبہ اورصدقہ جائزنہیں مگراس وقت جبکہ ا س پر قبضہ کرلیاگیا ہو پس اگر اس پرقبضہ ہوگیاتوایك تہائی میں جائزہوگا،اوراگر واہب سپردگی سے پہلے مرجائے تو ہبہ باطل ہوجائے گا۔یہ جانناضروری ہے کہ مریض کاہبہ عقد کے اعتبارسے ہبہ ہے وصیت نہیں ہے۔اوراس کا ایك تہائی سے اعتبارکرنا اس وجہ سے نہیں کہ وہ باعتبارمعنی کے وصیت ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وارثوں کا حق مریض کے مال کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور مریض نے ہبہ کےساتھ تبرع کیا ہے تو اس کاتبرع صرف اسی حد تك لازم ہوگا جوشرع نے اس کے لئے مقررکی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع