30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
ہبہ اگرچہ مرض الموت میں ہو حقیقۃً ہبہ ہے تمام شرائط ہبہ درکارہوں گی بلاقبضہ تمام نہ ہوگا مشاع ناجائزہوگا واہب اگرقبل قبضہ کاملہ موہوب لہ انتقال کرجائے ہبہ باطل ہوجائے گا غرض وہ بہمہ ووہ ہبہ ہے اوراسی کے احکام رکھتاہے مرض الموت میں ہونے کاصرف اتنا اثر ہے کہ وارث کے لئے مطلقًا اوراجنبی کے واسطے ثلث باقی بعدادائے دیون سے زیادہ میں بے اجازت دیگرورثہ نافذ نہ ہوگا اجازت وارث عاقل بالغ نافذالتصرف کی بعد وفات مورث درکارہے اس کی حیات میں اجازت دینی نہ دینی بیکارہے۔پس اگرمورث مثلااپنے پسرکواپنے مرض الموت میں کوئی شیئ ہبہ کرے اورقبضہ بھی پوراکرادے اوراس کے انتقال کے بعددیگرورثہ اسے نہ مانیں وہ یکسرباطل ہوجائے گا اوربعض مانیں اوربعض نہ مانیں تو اس نہ ماننے والے کے حصے کے لائق باطل قرارپائے گا۔نویرالابصار ودرمختارمیں ہے:
|
ھبتہ ووقفہ وضمانہ کوصیۃ فیعتبر من الثلث۔[1] |
مریض کاہبہ،وقف اورضمان اس کی وصیت کی مثل ہے،لہذا ایك تہائی میں سے معتبرہوں گے۔(ت) |
ردالمحتارعلی الدرالمختارمیں ہے:
|
قولہ وھبتہ ای اذا اتصل بھاالقبض قبل موتہ،اما اذامات ولم یقبض فتبطل الوصیۃ لان ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما کماصرح بہ قاضیخاں وغیرہ اھ طحطاوی عن المکی،قولہ حکمہ کحکم وصیۃ ای من حیث الاعتبار من الثلث لا حقیقۃ الوصیۃ لان الوصیۃ ایجاب بعد الموت وھٰذہ |
ماتن کاقول"وراس کاہبہ"اس سے مرادیہ ہے کہ واہب کی موت سے پہلے قبضہ اس کے ساتھ مقترن ہوجائے لیکن اگروہ مرگیا اوراس پرقبضہ نہ ہوا تووصیت باطل ہوجائے گی اس لئے کہ مریض کاہبہ درحقیقت ہبہ ہی ہے اگرچہ باعتبارحکم کے وصیت ہے،جیساکہ قاضیخاں وغیرہ نے اس کی تصریح فرمائی اھ طحطاوی میں بحوالہ مکی منقول ہے کہ ماتن کاقول"اس کا حکم وصیت کے حکم کی مثل ہے"یعنی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع