30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ کہ خود سب معترضین و غیر معترضین اقرارنامہ میں بالاتفاق اسے بنت حاجی کفایت لکھ چکے تواب اس کے دختر کفایت اﷲ ہونے میں کوئی شك نہیں وہ مثل دیگر دختران نہ بذریعہ وصیت بلکہ بوجہ وراثت حصہ پائے گی۔
جواب سوال ہشتم:وصیت نامہ جہاں تك نابالغوں یاان وارثوں کے حقوق پرجو اسے جائزنہیں رکھتے اثررسان ہے مردودوباطل ہے جوبالغ وارث اسے مان رہے ہیں صرف ان کے باہمی حقوق پراس کا اثر مقبول ہوسکتاہے۔درمختارمیں ہے:
|
لم تجزاجازۃ صغیرومجنون ولو اجاز البعض ورد البعض جازعلی المجیز بقدر حصّتہ۔[1] |
نابالغ اورمجنون کی اجازت جائزنہیں۔اگربعض وارثوں نے اجازت دی اوربعض نے انکار کیا تو اجازت دینے والے پر اس کے حصہ کی مقدار میں جائزہے۔(ت) |
وصیت نامہ میں ماں کوحصہ مادری اصلًا نہ دیااوروہ اس پرراضی نہیں نابالغ کاموضع ومکان اسم فرضی ٹھہراکر تقسیم میں شامل کرلیا اوریوں اسی کے مال سے اس کاحصہ پوراکیا اوریہ محض ظلم ہے نابالغوں کے مال کامہر ایك خفیف مقدار بتاکر وہ بھی اداہوجانا لکھایہ ہرگزبے بیّنہ عادلہ مقبول نہیں،لہذا تقسیم وصیت نامہ واجب الرد ہے بلکہ فضل حق کاموضع ومکان خالصًا اسی کو دے۔حمیدالنساء کامہراداہوجانا گواہان عادل شرعی سے ثابت نہ ہو تو مہرمثل تك اداکرے پھرجوکچھ متروکہ حاجی کفایت اﷲ منقول وغیرمنقول ہے سب سے اس کی ماں کوچھٹا اورنجم النساء کوآٹھواں دیکر باقی سب بیٹوں اورمع کریم النساء سب دختروں پر " لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ"[2](مذکرکاحصہ دومؤنثوں کے حصے کے برابرہے۔ت)ازسرنو تقسیم کریں نابالغوں کے حصے بلا تقسیم یك جا رہیں بالغوں کے حصے کا انہیں اختیارہے جس طرح چاہیں باہم تصفیہ کرلیں۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۰: ازپٹنہ محلہ لودی کڑہ مرسلہ جناب قاضی عبدالوحیدصاحب ۱۳ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرض الموت میں جو چیزہبہ کی جائے اس پراحکام ہبہ کے ہوں گے یاوصیت کے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع