30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یجوز مصانعتھا [1]۔ |
کہاکہ اس کی یہ نرمی جائز ہے۔(ت) |
یہ اسی حالت میں ہے جبکہ نہ ماننے میں اس سے عظیم ترنقصان پہنچنے کایقین ہو،فقط موہوم ضررکے لئے موجود مان لینا حلال نہیں۔پھربھی فرض قطعی ہے کہ جہاں تك ممکن ہو عرق ریزی کی جائے کہ یہ ظلم ان بیکسوں پرسے دفع ہویاجتناکم ہوسکے کم ہو۔پھربھی یہ جواز صرف ادھر سے رہے گا وہ ظالمین جو اس طرح دباکریتیموں کاحق لیں گے ان کے لئے وہ خالص آتش جہنم ہے وہ سخت عذاب الٰہی کے لئے مستعد رہیں۔والعیاذباﷲ تعالٰی،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
جواب سوال ششم:کریم النساء کاجبکہ کسی اورشخص کی دختر ہونامعروف ومشہور وثابت نہیں اور وہ اپنے آپ کودخترحاجی کفایت اﷲ کہتی ہے اوراس کی عمر اس کی قابلیت رکھتی ہے تو ایسی حالت میں قطع نظر تمام تحریرات وخطوط کفایت اﷲ کے صرف یہ وصیت نامہ جسے یہ لوگ جوکریم النساء کے نسب پرمعترض ہیں تسلیم کررہے ہیں دلیل کافی وحجت وافی تھاجس کے بعد معترضین کا اعتراض ہرگز مسموع نہ ہوتا اوروہ ضرور دخترحاجی کفایت اﷲ قرارپائی کہ وصیت نامہ میں جابجا اولاد،اپنی اولاد، ہماری اولاد لکھ کرانہیں کے نام کی فہرست میں کریم النساء کوبھی مثل دیگر دختران داخل کیا اور سب کوحصہ شرعی بلاکم وبیش پہنچنا لکھنا۔درمختارمیں ہے:
|
وان اقر لغلام مجھول النسب فی مولدہ فی بلدھو فیھا وھما فی السن بحیث یولد مثلہ لمثلہ انہ ابنہ و صدقہ الغلام لوممیزا والا لم یحتج لتصدیقہ کما مر حینئذ ثبت نسبہ ولوالمقر مریضا واذا ثبت شارك الغلام الورثۃ۔[2] |
اگرکسی نابالغ لڑکے کے بارے میں جس کانسب معلوم نہیں اس کے وطن میں یا اس شہر میں جس میں وہ وارد ہے یہ اقرار کیاکہ یہ میرابیٹا ہے درانحالیکہ دونوں کی عمر ایسی ہے کہ اس جیسا اس کابیٹا ہوسکتا ہے اورلڑکے نے اس کی تصدیق کردی جبکہ لڑکا باتمیزہو ورنہ اس کی تصدیق کی ضرورت نہیں، جیسا کہ گزرچکاہے،چنانچہ صورت مذکورہ میں اس کانسب ثابت ہوجائے گا اگراقرارکرنے والا مریض ہو جب نسب ثابت ہو گیا تو وہ لڑکا باقی وارثوں کاشریك ہوگا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع