30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھو قول ابن سلمۃ وھو استحسان وعن الفقیہ ابی اللیث عن ابی یوسف رحمہ اﷲ انہ کان یجیز للاوصیاء المصانعۃ فی اموال الیتامٰی واختیار ابن سلمۃ موافق لقول ابی یوسف وبہ یفتی والیہ اشار فی کتاب اﷲ تعالٰی(اما السفینۃ فکانت لمسٰکین یعملون فی البحر فاردت ان اعیبھا)اجاز العیب فی مال الیتیم مخافۃ اخذ المتغلب ذکرہ قاضی خان فی وصایا فتاویہ،وفیھا ایضا وصی انفق علی باب القاضی من مال الیتیم فاعطی علی وجہ الاجازۃ لایضمن،قال محمد بن الفضل رحمہ اﷲ لایضمن مقدار اجر المثل والغبن الیسیر ومااعطی علی الرشوۃ کان ضامنا وفیھا رجل مات واوصی الٰی امرأتہ وترك ورثۃ صغارا فنزل سلطان جائردارھم فقیل لھا ان لم تعطہ شیئا استولی علی الدار والعقار فاعطتہ شیئا من العقار قالوا |
وہ ہی قول ابن سلمہ کاہے اوروہ استحسان ہے۔فقیہ ابواللیث سے بحوالہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ منقول ہے کہ وہ یتیموں کے مال میں نرمی اختیار کرنے کی وصیوں کواجازت دیتے تھے۔ابن سلمہ کامختار امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے قول سے موافقت رکھتاہے اوراسی کے ساتھ فتوٰی دیاجاتاہے۔اوراﷲ تعالٰی کی کتاب میں اسی کی طرف اشارہ ہے"وہ جوکشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی کہ دریامیں کام کرتے تھے تومیں نے چاہاکہ اس کوعیب دارکردوں"اس میں کسی جابرکے قبضہ کے ڈرسے یتیم کے مال کوعیب دار کرنے کی اجازت ہے۔اس کوقاضی خان نے اپنے فتاوٰی کی کتاب الوصایا میں ذکر کیاہے۔اسی میں یہ بھی ہے کہ وصی نے قاضی کی کچہری میں یتیم کا مال خرچ کیا۔اگربطور اجارہ دیاہے توضامن نہیں ہوگا۔ محمدبن فضل علیہ الرحمہ نے کہاکہ مثلی اجرت اورغبن یسیر کی حد تك ضامن نہیں ہوگا۔لیکن اگر اس نے یتیم کامال بطور رشوت دیا ہے توضامن ہوگا۔اسی میں ہے کہ ایك مرد فوت ہوااوراس نے اپنی بیوی کووصی مقررکیا اورچھوٹے ورثاء بھی چھوڑے،پھرکوئی جابربادشاہ ان کے گھرمیں اترا اور اس عورت کوکہاگیاکہ اگرتونے بادشاہ کو کچھ نہ دیا تووہ پورے گھر اورجائداد پرجبرًا قبضہ کرلے گا۔چنانچہ عورت نے جائداد میں سے کچھ بادشاہ کو دے دیا تومشائخ نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع