30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رابعًا: زرشملہ بنك کی نسبت اگرگواہان عادل شرعی سے ثابت ہوکہ یہ روپیہ بنك سے لانے کے لئے حاجی کفایت اﷲ نے حافظ عبدالحق کومامورکیاتھا جب تو حافظ عبدالحق کابیان کہ میں نے اپنے والد کولاکردے دیا حلف کے ساتھ قبول کرلیا جائے گا کہ اب وہ وکیل ہوا اوروکیل امین ہے اورامین کاقول قسم کے ساتھ مقبول ہے ورنہ اس میں سے بھی حصہ نابالغان ہرگزنہیں چھوٹ سکتا،بعد اس تحریر کے دوسرے جلسے میں حافظ عبدالحق نے اقرارکیا کہ وہ روپیہ شملہ بنك سے لایا اپنے نام سے بنك میں جمع کردیا تو وہ اس روپے کامتغلب ہوابقیہ ورثہ کاحصہ اس کے ذمے عائدہے بالغوں کوچھوڑ دینے کا اختیار ہے،یتیموں کاحق کوئی نہیں چھوڑسکتا،اس کابیان کہ ساڑھے تین ہزاروالدنے اس کاقرضہ اداکرنے کو اسے دئیے ہرگزمقبول نہیں،بلکہ بالفرض اگر گواہان شرعی سے ثابت بھی ہوجائے کہ حاجی کفایت اﷲ نے اپنے مرض مذکورمیں اتنے ہزار حافظ عبدالحق کودے دئیے کہ اپنا قرضہ اداکرلو جب بھی نابالغوں کاحصہ اورنیز ان بالغوں کاجو اس دینے کوجائزنہ رکھیں دینا آئے گاکہ ہبہ مرض میں وصیت ہے اور وارث کے لئے وصیب بے اجازت ورثہ نافذنہیں ہوسکتی وارث موصی لہ جوکچھ قبل موت موصی تصرف میں لا چکتا ہے بعد موت موصی جو ورثہ اجازت نہ دیں ان کاحصہ واپس دینا پڑتا ہے،درمختارجلدپنجم۶۶۷:
|
اعتاقہ ومحاباتہ وھبتہ ووقفہ وضمانہ کل ذٰلك حکمہ کحکم وصیۃ۔[1] |
مرض الموت کے مریض کاآزاد کرنا،کم قیمت پربیچنا،ہبہ کرنا، وقف اورضمان سب کاحکم وصیت کے حکم کی مثل ہے۔(ت) |
ایضًاص۶۴۴:
|
لالوارثہ الاباجازۃ ورثتہ لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔[2] |
وارث کے لئے وصیت نہیں سوائے دیگروارثوں کی اجازت کے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت) |
عالمگیری جلدچہارم ص۱۴۱:
|
مریض وھب غلاما لامرأتہ فقبضتہ |
مریض نے اپنی بیوی کوغلام ہبہ کردیا بیوی نے اس پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع