30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مِلك ہوگیا اب اس کانام فرضی بتانا اس ہبہ سے رجوع کرناہے اوراولاد کوہبہ کرکے رجوع باطل محض ونامسموع۔در مختار جلد۴ص۷۹۱:
|
لووھب لذی رحم محرم منہ نسبا ولوذمیا او مستامنالایرجع۔[1] |
اگرکسی نے اپنے نسبی ذی رحم کوہبہ کیااگرچہ وہ ذمّی یامستامن ہوتواب رجوع نہیں کرسکتا۔(ت) |
درمختارجلد۴ص۷۹۲:
|
لوکانا ای العبدومولاہ ذارحم محرم من الواھب فلا رجوع اتفاقا[2]۔ |
اگروہ دونوں یعنی غلام اور اس کامالك واہب کے ذی رحم محرم ہوں توبالاتفاق رجوع نہیں ہوسکتا۔ |
پس فرض ہے کہ جو موضع ومکان فضل حق کے نام تھے وہ خاص اس کے سمجھے جائیں اوراس تقسیم سے جدا رہیں اوروہ باقی تمام متروکہ کہ کفایت اﷲ میں برابرکاحصہ دیاجائے۔
ثانیًا: نجم النساء اقرارنامہ میں صراحۃً مان چکی ہے کہ ان تین رقوم مصرحہ اقرارنامہ کے سوا اورکوئی دادنی ذمہ حاجی کفایت اﷲ نہیں تو اس کادعوی مہرساقط ہوگیابالغین اختیاررکھتے ہیں کہ باوصف سقوط دعوی بھی اس کابار اپنے سرلیں مگرکسی نابالغ پراس کابارڈالنااپنے سرعذاب الٰہی کاوبال لیناہے۔
ثالثًا: اس سوال میں سائل نے مہرحمیدالنساء والدہ نابالغان کاذکرنہ کیا۔سوال اول میں اس کاتذکرہ تھا اورملاحظہ وصیت نامہ سے ظاہرہوا کہ حاجی کفایت اﷲ نے اس کا مہر(ماصہ عہ)کاظاہر کیااوریہ کہ وہ ان کی حیات میں اداکردیاگیا،مگرکبھی مدیون کاقول خفت مقداردین یا اس کے اداکردینے کے بارے میں مقبول نہیں ہوسکتا اگر گواہان عادل شرعی سے حمیدالنساء کامہراداہوجانا ثابت ہے فبہا ورنہ لازم کہ مہرمثل تك حمیدالنساء کامہر قائم اوراس میں سے چہارم حصہ شوہر اورایك حصہ کریم النساء بالغہ (جبکہ وصیت نامہ کوتسلیم کرچکی ہو)ساقط کرکے باقی اولاد نابالغان حمیدالنساء کے حصے ان نابالغوں کودئیے جائیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع