30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہنچا تھا تو اس سے جائداد مذکور بھی متوفی کاہونا کیونکرلازم آیا۔فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب۔[1] |
باپ کے مال سے خریداری سے لازم نہیں آتاکہ مبیع باپ کے لئے ہو۔(ت) |
باپ جوچیز اپنے نابالغ بچے کے نام خریدے وہ اس کے لئے ہبہ ہوتی ہے اورباپ ہی کے قبضہ سے نابالغ کی ملك ہوجاتی ہے۔
ردالمحتارجلد۴ص۷۷۴:
|
الاب اشتری لھا فی صغرھا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا وذٰلك فی صحۃ فلاسبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ [2] اھ منح۔ |
باپ نے اپنی بچی کے لئے اس کی صغرسنی میں یا اس کے بالغ ہونے کے بعد کچھ خریدار اوراس کے سپردکردیا اوریہ کام اس نے اپنی صحت کے زمانے میں کیا تو دیگروارثوں کا اس پرکوئی حق نہیں وہ بیٹی کے لئے خاص ہوگا اھ منح(ت) |
عقودالدریہ ج۲ص۲۸۰ و ۲۸۱:
|
ذکر فی الذخیرۃ والتجنیس،امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالھا وقع الشراء للام لانھا لا تملك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ والام تملك ذٰلك ویقع قبضا عنہ، احکام الصغار من البیوع۔[3] |
ذخیرہ اورتجنیس میں مذکورہے کسی عورت نے نابالغ بیٹے کے لئے اپنے مال سے جائداد خریدی تو وہ خریداری ماں کے لئے واقع ہوگی کیونکہ وہ اولاد کےلئے خریداری کی مالك نہیں اورجائداد بیٹے کے لئے ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوگئی اور وہ اس کی مالك ہے اورجائداد پرقبضہ بیٹے کی طرف سے واقع ہوگا،احکام الصغارمن البیوع۔(ت) |
تو موضع ومکان جومتوفی نے فضل حق نابالغ کے نام خریدا اگرچہ روپیہ متوفی ہی کاتھا فضل حق کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع