30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)یہ کہ جائداد پیلی بھیت کے دکانات ومکانات جواز روئے قیمت کے باعتبارزیادہ اورآمدنی کم ہے لیکن مدعیہ کواپنی سکونت پیلی بھیت کی وجہ سے نافع ہے اوراس کی خواہش کے موافق دی گئی۔
(۲)مہرمسماۃ نجم النساء زوجہ مورث کاباوجود اقرارنامہ اور وصیت نامہ درج نہ ہونے کے دلایاگیا۔
(۳)خرچہ نالشات ہردوفریق کااز روئے بیان حلفی ہرفریق کہ جس قدربیان کریں جملہ جائداد سے اول منہا ہومابقی جائداد ازروئے حصص شرعی تقسیم کی جائیگی اورتقررقیمت اورحصص اس قاعدہ سے قرارپایاہے جیساکہ اس سے کچھ زمانہ قبل سب شرکاء کے آپس کی رضامندی سے ایك فہرست تیارکی تھی اور اس وقت بسبب نہ طے پانے بعض نزاع کے ملتوی ہوگیا تھا نفاذ اس کا۔
(۴)جوجائداد ازقسم دھات ودکان ومکان بنام محض ورثاء مسمیان احسان الحق وکریم النساء بالغان وفضل حق نابالغ مورث نے اپنی حالت صحت میں نامزدکردیا تھا اوران کی تحریرات بھی باضابطہ ان کے ناموں سے ہو چکی تھی مگروصیت نامہ اورنیز اقرار نامہ ثالثی میں ان کے مالکوں نے اورفضل حق نابالغ کی طرف سے بولایت شیخ عبدالعزیز کے جن کی ولایت بعض ورثاء کی جانب سے قراردی گئی ہے بشمول جملہ جائداد کی جملہ ورثاء پر تقسیم کردیناقبول ومنظورکیا ہے۔
(۵)زرمجتمع شملہ بینك جونمبری ۴۴ اقرارنامہ کے تحت میں بلاتعداد لکھے بھی اورحساب بینك مذکورکے آنے سے تعدادی بارہ ہزارپانسوبارہ روپیہ حافظ عبدالحق کالانا دو روز قبل وفات مورث کے معلوم ہوا لیکن حافظ عبدالحق اس مجرادینے سے انکارکرتے ہیں اس بناء پر ك بوقت دستخط کرنے اقرار نامہ ثالثی کے اس میں سے بعض وارث احسان الحق وغیرہ کوکوئی جُز دلانے کے بعد مابقی کامطالبہ نہ کرنا بعض ورثاء نے بوعدہ زبانی یاکسی خاص تحریری رقعہ کے ذریعہ سے قبول ومنظور کرلیا ہے آیا اس رقعہ کاباربحق نابالغان بھی پڑے بخیال مصلحت مرقومہ بالاکے توکیاحکم رکھتا ہے۔
(۶)بمد ۳۱ اقرارنامہ کے زیرطلائی ونقرئی بنگال بینك میں امانت رکھانا لکھا ہے اوربموجب بیانات مشہورہ کے نابالغان کی والدہ متوفی حمیدن کازیور واسطے نابالغوں کے بینك میں رکھایا تھا اس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع