30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایجوز الابضعف القیمۃ۔[1] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
وہ بدچلن اورفسادی ہے توپھرسوائے دگنی قیمت کے اسے فروخت کرناجائزنہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۳۹( ا): ۳۰جمادی الاولٰی ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس
مسئلہ میں کہ حاجی محمدکفایت اﷲ کی دوزوجہ،زوجہ اولٰی نجم النساء کے بطن سے حافظ
عبدالحق،احسان الحق دوپسراورعجائب النسائ،لطیف النساء،حبیب النساء،جمیل النساء
چاردختر سب بالغ،اورزجہ ثانیہ حمید النساء عرف ننھی کے بطن سے فضل حق،ضیاء
الحق،ریاض الحق تین پسر اوراحمدی بیگم ایك دخترسب نابالغ،اورننھی کی ایك دختر
بالغہ کریم النساء ہے جسے دیر ورثہ نطفہ حاجی کفایت اﷲ سے نہیں بناتے بلکہ ربیبہ
کہتے ہیں حمیدالنساء حیات شوہر میں انتقال کرگئی حاجی کفایت اﷲ نے اپنے مرض الموت
میں بشمول نجم النساء ایك وصیت نامہ سات امرپرمشتمل لکھا۔اول ظاہرکیاہے کہ جائداد
مندرجہ وصیت نامہ ہردوکاتبان کی ہے ابتداء کام نقدی وجائداد وکاتبہ نمبر۲ سے
شروع ہوااور اضافہ وترقی ہوتی رہی اور وہ جز حصہ ہشتمی زوجیت و دین مہرکاتبہ
کاجائداد مصرحہ تحت میں شامل ہے جائدادونقدی ایسی مخلوطہ ہے جس کو علیحدہ دکھانا
بلاضرورت ہے خاص کرجب ہردوکاتبان کا منشا دلی یہ ہے کہ جائداد مصرحہ تحت تمام
اولاد مصرحہ ذیل پرحسب شرع شریف بلااستثناء کسی جز کے تقسیم ہوجائے اورکسی اولاد
کے ساتھ کوئی خاص رعایت نہ دکھائی جائے توایسی حالت میں جائداد تمام اولاد پرحسب
شرع شریف تقسیم مطابق وصیت نامہ ہذاہوگی۔کاتب نمبر۱ نے
تیاری تحریری وصیت نامہ ہذاکی کی تھی کاتبہ نمبر۲ نے
بھی کاتب نمبر۱ سے خواہش کی کہ کاتب نمبر۱ کی
جائداد عین کاتبہ نمبر۲ کی
جائداد کی ہے تمام اولاد پربذریعہ وصیت نامہ ہذامنتقل ہوہردوکاتبان نے اپنی خوشی
سے وصیت نامہ ہذاتمام اولاد مندرجہ تحت کے نام تحریر کیاکہ جائداد بحیثیت موجودہ
بعد ہمارے ہم لوگوں کے قبضہ میں رہے اورہماری اولاد کوپوری واقفیت ہوجائے کہ کون
جزجائداد کا ان کی ملکیت میں رہے گا۔
دوم:حاجی کفایت اﷲ نے کچھ دیہات ودکان ومکان اپنی تندرستی میں احسان الحق وفضل
الحق وکریمن کے نام کردئیے تھے اس وصیت میں وہ بھی شامل کئے اورلکھاوصیت نامہ کی
یہ بھی ضرورت ہوئی کہ اکثر جائداد فرضی بعض اولاد کے نام تھی اس کی بابت احتمال
تھا کہ کوئی تحریر نہ ہو تو وہ اولاد تنہااپنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع