30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زرچندہ سے یتیموں کاختنہ کرسکتے ہیں اوربرایتوں کومعمولی کھانادینابھی جائز بشرطیکہ سراف نہ ہو صرف بقدرکفایت ہو۔
|
فی ردالمحتار عن القنیۃ لایضمن ماانفق فی المصاھرات بین الیتیم والیتیمۃ وغیرھما فی خلع الخاطب اوالخطیبۃ وفی الفضیافات المعتادۃ والھدایا المعھودۃ وفی اتخاذ ضیافۃ لختنۃ للاقارب والجیران مالم یسرف فیہ [1] اھ مختصرا۔واﷲ اعلم۔ |
ردالمحتارمیں بحوالہ قنیہ منقول ہے یتیم لڑکے اوریتیم لڑکی وغیرہ کی شادی کے موقع پر دولہا اوردلہن کے جوڑوں،عادت کے مطابق دعوتوں،عرف کے مطابق تحائف اورختنہ کے موقع پرعزیز واقارب اورپڑوسیوں کی دعوت میں جوکچھ خرچ کیاجائے اس پرتاوان لازم نہیں آتا جب تك اس میں فضول خرچی نہ کی جائے اھ مختصرًا۔(ت) |
مسئلہ ۱۳۸: ۲۷/جمادی الاولٰی ۱۳۲۱ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنامکان ودکان اپنی زوجہ کے نام بیع کردیاتھا زوجہ نے انتقال کیا۔زید کے تین بچے نابالغ اپنی ماں کے وارث ہیں۔اب زیدکے پاس کچھ نہیں کہ اس سے اپنا اوران نابالغوں کاکھانا پینا چلے۔زیدنیك چلن ہے مال برباد کرنے والانہیں وہ نیك نیتی سے چاہتاہے کہ اپنااوراپنے نابالغ بچوں کاحصہ بیچ کرتجارت کرے جس سے ان سب کارزق پیداہو۔اس صورت میں زید ان حصوں کے بیچنے کااختیاررکھتاہے یانہیں؟بیّنواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
فی الواقع صورت مستفسرہ میں اگرزیدنیك چلن ہے اولاد کامال برباد کرنے کااس پراندیشہ نہیں اوربیع مناسب اورمعقول قیمت کو ہوتو اسے ان حصوں کے بیچنے کااختیارہے،عقودالدریہ میں فصول عمادی سے ہے:
|
الحاصل ان بیع الاب عقار الصغیر بمثل القیمۃ یجوز اذاکان محمودا اومستورا اواذاکان مفسدا |
خلاصہ یہ کہ باپ کانابالغ کی غیر منقولہ جائداد کومثلی قیمت کے ساتھ فروخت کرنا جائزہے جبکہ وہ نیك چلن یاپوشیدہ حال والاہو،اوراگر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع