30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۳۶: ۱۲ربیع الاول شریف ۱۳۱۹ھ مرسلہ حافظ محمودحسین صاحب تلمیذومریدگنگوہی صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مہاجرہ ہندی مدنی نے کہ اس کی جائداد ہندوستان میں واقع ہے اس طرح وصیت کی تھی کہ میری جائداد کامنافع ایك ثلث یہاں مدینہ منورہ علٰی صاحبہا افضل التسلیم والتحیۃ بھیج دیاجایاکرے،اورصورت یہ ہے کہ ہندوستان میں اس کے بعض اقارب قریبہ بلکہ ذی رحم محرم حاجتمند ومفلس موجود ہیں کہ اس درجہ قریب رشتہ دارمدینہ منورہ میں موصیہ کے نہیں ہیں،پس اس صورت میں اگر اس کی وصیت کاروپیہ یہاں ہندوستان میں اس کے اقربائے قریبہ حاجتمند ومفلس کودیاجائے تو وصیت اداہوگی یانہیں؟ اورکیاافضل ہے مدینہ منورہ بھیجنایا یہاں قریب ذی رحم حاجتمند ومفلس کودینا۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
جہاں کے فقراء کودیں گے وصیت اداہوجائے گی کچھ خاص مدینہ منورہ ہی بھیجنا ضروری نہیں ہرجگہ کے فقراء کودیناجائز ہے۔خلاصہ پھرشرنبلالیہ پھردرمختارمیں ہے:
|
لواوصی لفقراء بلخ فاعطی غیرھم جاز عند ابی یوسف وعلیہ الفتوی۔[1] |
اگر کسی نے وصیت کی بلخ کے فقیروں کے لئے۔اور وصی نے ان کے غیر کودے دیا توامام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیك جائزہے،اوراسی پرفتوی ہے۔(ت) |
شرح القدوری للزاہدی میں ہے:
|
فی الوصیۃ لفقراء الکوفۃ جازلغیرھم[2]۔ |
کوفہ کے فقیروں کے لئے وصیت کی صورت میں ان کے غیر کودیناجائزہے(ت) |
قاضی خان پھرہندیہ میں ہے:
|
رجل اوصی بان یتصدق بشیئ من مالہ علی فقراء الحاج ھل یجوز ان یتصدق علی غیرھم من الفقراء قال الشیخ الامام ابونصر رحمہ اﷲ |
کسی شخص نے وصیت کی کہ اس کے مال میں سے کچھ حاجی فقراء پرصدقہ کیاجائے توکیا ان کے غیرپرصدقہ کرناجائز ہے؟ شیخ امام ابونصرعلیہ الرحمہ نے کہاکہ جائزہے کیونکہ امام ابویوسف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع