30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
جازبیعہ عقار صغیر من اجنبی لامن نفسہ بضعف قیمتہ اولنفقۃ الصغیر اودین المیت اووصیۃ مرسلۃ لانفاذ لھا الامنہ اولکونہ غلاتہ لاتزید علی مؤنتہ او خوف خرابہ اونقصانہ اوکونہ فی ید متغلب درر واشباہ ملخصا قلت وھذا لو البائع وصیا لامن قبل ام اواخ فانھما لایملکان بیع العقار مطلقًا [1] الخ و فی الشامیۃ عن الرملی عن الخانیۃ فی مسئلۃ بیع المنقول لنسیئۃ ان کان یتضرربہ الیتیم بان کان الاجل فاحشا لایجوزا [2] اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نابالغ کی غیرمنقول جائدادکواجنبی کے ہاتھ دُگنی قیمت پربیچنا جائزہے وصی خود نہیں خریدسکتا۔یونہی نابالغ کے نفقہ یامیت کے قرض کی ادائیگی یاایسی وصیت مطلقہ کے نفاذ کے لئے بیچنا جائز ہے جس وصیت کانفاذ اس جائیداد کو بیچے بغیر نہیں ہو سکتا یا اس جائداد کی پیداوار اس کے اخراجات سے زیادہ نہیں یا اس جائداد کے خراب ہونے یاناقص ہونے یاکسی جابر کے قبضہ میں چلے جانے کاخوف ہوتوبھی بیع جائزہے،درر واشباہ (تلخیص)اوریہ تب ہے کہ بائع ماں کی طرف سے یابھائی کی طرف سے وصی نہ ہو،کیونکہ یہ دونوں غیرمنقول جائداد کوبیچنے کامطلقًا اختیارنہیں رکھتے الخ اورشامیہ میں بحوالہ خانیہ رملی سے منقول ہے کہ منقول جائداد کی ادھارپربیع اگریتیم کے لئے نقصان دہ ہوبایں صورت کہ ادھار کی مدت بہت زیادہ ہو توجائزنہیں الخ۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
_________________
رسالہ
الشرعۃ البھیّۃ فی تحدید الوصیّۃ(۱۳۱۷ھ)
ختم ہوا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع