30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یُبَدِّلُوۡنَہٗؕ اِنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ﴿۱۸۱﴾ؕ"[1]۔ |
والوں پرہے بے شك اﷲ سنتاجانتاہے(ت) |
جواب سوال ہشتم:ہاں بعد تجہیز وتکفین وادائے دیون وانفاذ وصایا جوسہام ورثہ نا بالغین کوپہنچیں گے وصی بلاوجہ شرعی ان کی بیع وتبدیل اورکسی فعل مخالف حفظ کامجازنہیں کہ وصی محافظ ہے نہ متلف ولہذا ان کی جائداد منقولہ کوبیچ سکتاہے کہ س کی بیع ازقبیل حفظ ہے جبکہ یتیم کا اس میں ضرر نہ ہو اورغیرمنقولہ کوہرگزنہیں بیچ سکتامگرچندصوراستثناء میں۔
|
فی الہندیۃ،للوصی ان یبیع کل شیئ الترکۃ من المتاع و العروض والعقاراذا کانت الورثۃ صغارا اما بیع ما سوی العقار فلان ماسوی العقار یحتاج الی الحفظ و عسٰی ان یکون حفظ الثمن اَیْسَرَ وبیع العقار ایضا فی جواب الکتاب،قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اﷲ ماقال فی الکتاب قول السلف کذا فی فتاوی قاضی خان،وجواب المتاخرین انہ انما یجوز بیع عقار الصغیر اذاکان علی المیت دین ولاوفاء لہ الامن ثمن العقار اویکون للصغیر حاجۃ الٰی ثمن العقار او یرغب المشتری فی شراءہ بضعف القیمۃ وعلیہ الفتوی کذا فی الکافی[2] اھ،وفی الدر |
ہندیہ میں ہے وصی کو اختیارہے کہ وہ ترکہ کی ہرشیئ کو فروخت کرے چاہے وہ اسباب وسامان کے قبیلہ سے ہویاغیر منقول جائداد جبکہ ورثاء نابالغ ہوں۔غیرمنقولہ جائداد کے ما سوا کی بیع تواس لئے جائزہے کہ اس کی حفاظت کی خاطر اس کی ضرورت ہے ممکن ہے کہ ثمنوں کی حفاظت زیادہ آسان ہو اورکتاب کے حکم کے مطابق غیرمنقول جائداد کی بیع بھی جائز ہے۔شمس الائمہ حلوانی علیہ الرحمہ نے کہاکہ کتاب میں جو کہاہے وہ اسلاف کاقول ہے،یونہی فتاوٰی قاضی خان میں ہے۔ اورمتأخرین نے اس کا حکم یہ بیان کیاہے کہ نابالغ کی غیر منقول جائدادکو فروخت کرنا صرف اس صورت میں جائزہے جب میت پر اس قدرقرض ہوکہ وہ اس جائداد کی قیمت کے بغیر پورانہیں ہوتا یانابالغ کواس جائداد کی قیمت کی محتاجی ہویا خریداراس جائدادکودگنی قیمت پرخریدنے کی رغبت رکھتاہے، فتوٰی اسی پرہے جیساکہ کافی میں ہے الخ،درمیں ہے: |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع