30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والرکوب۔[1] |
کے لئے کرائے پرلینا جائزنہیں(ت) |
وصیت بھی انہیں عقودمجوزہ للحاجہ سے ہے۔
|
فی الہدایۃ القیاس یابی جوازھا لانہ تملیك مضاف الٰی حال زوال مالکیتہ ولو اضیف الی حال قیامھا بان قیل ملکتك غدا کان باطلا فھذا اولی الا اناستحسناہ لحاجۃ الناس الیھا[2]الخ۔ |
ہدایہ میں ہے قیاس تواس کے جوازسے مانع ہے کیونکہ وصیت ایسی تملیك ہے جوموصی کی مالکیت کے حال زوال کی طرف منسوب ہوتی ہے۔اگراس کی نسبت اس حالت کی طرف کی جائے جب مالکیت قائم ہوتی ہے یعنی یوں کہاجائے میں نے تجھے آئندہ کل اسی کامالك کردیاتو یہ باطل ہوگی۔چنانچہ بطلان مالکیت والی حالت میں اس کا بطلان بدرجہ اولٰی ہوگا مگرہم نے بطوراستحسان اس کو جائزقراردیاکیونکہ لوگوں کواس کی حاجت ہے الخ(ت) |
توبے فائدہ محض اس کی تشریع معقول نہیں حالت تملیك وافعال قربت میں حصول فائدہ ظاہر اورمعصیت عارضہ غایت یہ کہ مثل بیع وقت اذان جمعہ یانماز عصروقت زردی فرض کردے منافی صحت نہیں ہوسکتی بخلاف اس صورت کے کہ نہ تملیك نہ سرے سے قربت،ایسی ہی جگہ کہاجائے گاکہ وصیت امرمکروہ ونامشروع کی ہے،لہٰذا صحیح نہیں کہ موجب صحت یعنی حاجت معدوم ہے معہذا ہم اوپرواضح کرآئے کہ وصیّت ایجاب ہے اورایجاب لحق وغیرہ ہو جیسے تملیك میں یا لحق نفسہ جیسے قربات میں جہاں کوئی نفع نہیں ایجاب کیوں ہونے لگا۔
|
فی الہندیۃ عن المحیط لواوصی بان یباع عبدہ ولم یسم المشتری لایجوز الا ان یقول وتصدقوا بثمنہ اویقول بیعوہ نسیۃ ویحط الی الثلث عن المشتری [3] الخ وفیھا عن المبسوط اوصی بعبدہ ان یباع ولم یزد علی |
ہندیہ میں محیط سے منقول ہے اگرکسی نے وصیت کی کہ اس کاغلام بیچ دیاجائے اورخریدارکومتعین نہیں کیا توجائزنہیں مگر یہ کہ یوں کہے کہ اس کی قیمت کو صدقہ کردو یاکہے کہ اس کو ادھار پربیچ دو اورمشتری سے تہائی تك قیمت کم کردے الخ اور اسی میں بحوالہ مبسوط ہے کسی نے اپنے غلام کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع