30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذا اخطأ المیّت فی وصیتہ اوجار معتمدا فلاحرج علی ولیہ او وصیہ او والی امورالمسلمین ان یصلح بعد موتہ بین ورثتہ وبین الموصی لھم ویرد الوصیۃ الی العدل والحق۔[1] |
میت نے وصیت میں خطا کی یاجان بوجھ کر ظلم کیا تو ولی یاوصی یامسلمانوں کے امورکے والی کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ موصی کی موت کے بعد اس کے وارثوں اوروصیت والوں کے درمیان صلح کرادیں اوروصیت کوعدل وحق کی طرف لوٹادیں۔(ت) |
ثم اقول وباﷲ التوفیق(پھرمیں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)سراس میں یہ ہے کہ شرع مطہرکسی حرکت لغو وبے معنی کومشروع ومقررنہیں فرماتی تمام عقود وافعال ومعاملات کی صحت فائدے پراعتماد رکھتی ہے فائدہ خواہ دوسرے کاہو اگرچہ محض دنیوی خواہ اپنااگرچہ صرف اخروی اور جوعبث محض ہے ہرگزصحیح نہیں ولہٰذا ایك روپیہ اسی کے مثل وہمسردوسرے روپے کے بدلے بیچنا یامکان کے مساوی شرکائے مشاع کا اپناحصہ دوسرے کے حصے سے بدلنا یاکسی کی سکونت کو سکونت کے عوض اجارہ میں دیناصحیح نہ ہوا۔درمختارمیں ہے:
|
خرج بمفید مالایفید فلایصح بیع درھم بدرھم استویا وزنا وصفۃ ولامقایضۃ احدالشریکین حصۃ دارہ بحصۃ الاخر(صیرفیہ)ولااجارۃ السکنی بالسکنٰی اشباہ[2]۔ |
مفید کی قید سے غیرمفید نکل گئی چنانچہ وزن وصفت میں برابر ایك درہم کی دوسرے درہم کے بدلے بیع صحیح نہیں، اورنہ ہی ایك مکان کے دوبرابر شریکوں میں سے ایك کا دوسرے سے اپنے حصے کاتبادلہ صحیح ہے(صیرفیہ)،اور سکونت کے بدلے سکونت کواجارہ پردیناصحیح نہیں(اشباہ)۔(ت) |
خصوصًا وہ عقود جوبرخلاف قیاس بنظرحاجات ناس مشروع ہوئے وہ توحاجت پرہی اعتماد کیاچاہیں،ولہٰذا نا قابل سواری بچھڑے کاسواری کے لئے اجارہ جائزنہ ہواکہ قیاس جوازاصل اجارہ کانافی اورداعی جوازیعنی حاجت،بوجہ عدم قابلیت یہاں منتفی۔
|
فی الفتح من باب العنین لم یجز استئجارالحجش للحمل |
فتح کے باب العنین میں ہے سواری کی صلاحیت نہ رکھنے والے بَچھیرے کوسواری اورباربرداری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع