30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الوصیۃ انما صحت باعتبار التملیك لھم [1]۔ |
یہ وصیت تومحض ان کے لئے تملیك کے اعتبارسے صحیح ہے۔(ت) |
یہ کیسے نصوص صریحہ ہیں کہ وصایائے تملیك اگرچہ معصیت ہوں صحیحہ ہیں۔سند سوم کافرحربی کے لئے وصیت باوصف ممانعت صحیح ونافذ ہے۔
|
مطلقًا علی ما اختارہ الائمۃ الجلۃ طاھر بن عبد الرشید البخاری و الامام السغناقی اول شراح الھدایۃ والامام النسفی صاحب الکنز والوافی و الامام حافظ الدین البزازی اوبشرط الاستیمان علی مامشی علیہ فی الغرر الدرر والتنویر والدر و اجعلہ فی الخانیۃ اجماعا وفی المقام تحقیق انیق اتینابہ فیما علقنا علی ردالمحتار لولاغرابۃ المقام لاسعفنابہ۔ |
بغیر کسی طرط کے جیساکہ بزرگ ائمہ کرام یعنی طاہرین عبد الرشیدبخاری،ہدایہ کے شارح اول امام سغناقی،کنزو وافی کے مصنف امام نسفی اورامام حافظ الدین برازی نے اختیارکیا، یامستامن ہونے کی شرط کے ساتھ جیساکہ غرردرر،تنویر اوردرمیں اس کو اپنایاہے۔اس مقام پر نہایت عمدہ تحقیق ہے جس کو ہم نے رد المحتار پراپنی تعلیق میں ذکرکیاہے۔ اگر مقام کی اجنبیت نہ ہوتی تو ہم اس کو یہاں ذکرکرتے۔(ت) |
خلاصہ ونہایہ وکافی ووجیزمیں ہے:
|
واللفظ للاول،الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ،وفی السیر الکبیر مایدل علی الجواز والتوفیق بینھما انہ لاینبغی ان یفعل ولوفعل یثبت الملک۔[2] |
اورلفظ پہلی کتاب کے ہیں کہ اہل حرب کے لئے وصیت باطل ہے اورسیرکبیرکی عبارت جواز پردلالت کرتی ہے۔ان دونوں کے درمیان تطبیق یوں ہوگی کہ اہل حرب کے لئے وصیت نہ کرنی چاہئے لیکن اگرکردے توملك ثابت ہوجائے گا۔(ت) |
صورت ثالثہ:یعنی وصیت قربت صحیح ہے اگرچہ نظر بخارج کراہت ہواس کے دلائل وہ تمام مسائل ہیں جن میں قربت کے لئے ثلث سے زائد وصیت کوصحیح مانا اورورثہ اجازت دیں توپوری مقدار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع