30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الہندیۃ عن المحیط اذا اوصی ان یدفن فی مسح کان اشتراہ ویغل و یقید رجلہ فھذہ وصیۃ بمالیس بمشروع فبطلت ویکفن بکفن مثلہ ویدفن کما یدفن سائر الناس۔[1] |
ہندیہ میں بحوالہ محیط منقول ہے جب کسی نے وصیت کی کہ اسے ٹاٹ میں کفن دیاجائے جو اس نے خریدا ہے اوراس کو طوق پہنایاجائے وراس کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالی جائیں، تو چونکہ یہ شرعی طورپرناجائزکام کی وصیت ہے لہٰذا باطل ہوگی، اس کوکفن مثلی دیاجائے گا اوردیگرلوگوں کی طرح دفن کیا جائے گا۔(ت) |
مثال چہارم:وصیت کی کہ مجھے میرے گھرمیں دفن کریں باطل ہے کہ یہ حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ مخصوص اورامت کے حق میں نامشروع ہے،خلاصہ وبزازیہ وتاتارخانیہ وہندیہ وغیرہ میں ہے:
|
واللفظ للثالثۃ اوصی بان یدفن فی دارہ فوصیتہ باطلۃ الا ان یوصی ان یجعل دارہ مقبرۃ للمسلمین[2]۔ |
لفظ تیسری کتاب یعنی تاتارخانیہ کے ہیں۔اگر کسی نے وصیت کی اس کو اپنے گھرمیں دفن کیاجائے تو وہ وصیت باطل ہوگی سوائے اس کے وہ یوں کرے کہ اس کے گھر کو مسلمانوں کے لئے قبرستان بنادیاجائے۔(ت) |
صورت ثانیہ: یعنی وصیت تملیك باوصف کراہت صحیح ہے اس کی ایك سند وہی ہے جو سوال میں بحوالہئ شامی مسطورکہ فسّاق کے لئے وصیت مکروہ ہے اورباوجودکراہت صحیح سنددوم۔ وجیزامام کردری میں ہے:
|
الثانی معصیۃ مطلقًا کالوصیۃ للنائحۃ والمغنی ان لم یکن یحصون لایصح وان لقوم باعیانھم صح[3]۔ |
دوسری مطلقًا گناہ ہے جیسے نوحہ کرنے والی عورت اورگویّے کے لئے وصیت۔اگروہ قابل شمار نہ ہوئے توصحیح نہیں اور معین قوم کے لئے توصحیح ہے۔(ت) |
تبیین الحقائق پھرردالمحتارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع