30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذا اوصی بان یطین قبرہ اویوضع علی قبرہ قبۃ فالوصیۃ باطلۃ الا ان یکون فی موضع یحتاج الی التطیین بخوف سبع اونحوہ سئل ابوالقاسم عن من دفع الی ابنتہ خمسین درھما فی مرضہ وقال ان مت فاعمری قبری وخمسۃ دراھم لك واشتری بالباقی حنطۃ وتصدقی بھا قال الخمسۃ لہا لاتجوز وینظرالی القبر الذی امر بعمارتہ فان کان یحتاج الی العمارۃ للتحصین لاللزینۃ عمرت بقدر ذٰلك والباقی تتصدق بہ علی الفقراء وان کان امر بعمارۃ فضلت علی الحاجۃ الذی لابدمنھا فوصیۃ باطلۃ[1]۔ |
کسی نے وصیت کی کہ اس کی قبرکی لپائی کی جائے اوراس پر گنبدبنایاجائے تووصیت باطل ہوگی۔مگریہ کہ وہ ایسی جگہ ہو جہاں اس کی ضرورت ہے تومکروہ نہیں۔مثلًا وہاں کسی درندے وغیرہ کا خوف ہو۔ابوالقاسم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے اپنی بیٹی کو بیماری کی حالت میں پچاس درہم دے کرکہا اگرمیں مرجاؤں تو میری قبرتعمیرکرانا اورپانچ درھم تیرے ہیں باقی سے گندم خریدکر اسے صدقہ کردینا۔ابوالقاسم نے کہاکہ بیٹی کے لئے پانچ درہموں کی وصیت جائزنہیں۔اورقبرکودیکھاجائے گااگروہاں قبرکی حفاظت کے لئے عمارت کی محتاجی ہے توبقدرحاجت وہ تعمیر کرائے لیکن زینت کے لئے جائزنہیں اورجوباقی بچے وہ فقراء پر صدقہ کردے۔اگرموصی نے قدرحاجت سے زائد عمارت کا حکم دیاتو اس کی وصیت باطل ہوگی۔(ت) |
بزازیہ میں ہے:
|
عمارۃ القبران لتحصین یجوز وان لتزیین فالوصیۃ ایضا باطلۃ ویصرف الکل الی الفقراء۔[2] |
قبر کی عمارت اگرحفاظت کے لئے ہے تو وصیت جائزہے اور اگرزیبائش کے لئے ہے تو ناجائزوباطل ہے۔لہٰذا وہ سب مال فقراء پرخرچ کیاجائے گا۔(ت) |
مثال سوم:وصیت کی کہ اُسے ٹاٹ کاکفن دیں اورگلے میں طوق پاؤں میں بیڑیاں ڈال کردفن کریں یہ امرنامشروع کی وصیت ہے مقبول نہ ہوگی اوربطورمشروع دفن کریں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع