30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما فعل بقبر عثمٰن بن مظعون رضی اﷲ تعالٰی عنہ و وضع حجرا لیتعرف بھا قبرہ ویدفن الیہ من مات من اھلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما اخرجہ ابوداؤد[1] فی سننہ بسند جید۔ |
جیساکہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی قبرپرپتھرنصب فرمایا تاکہ اس پتھر کے سبب قبر کی پہچان رہے اورحضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے خاندان مبارك سے وصال فرمانے والے افراد کو اس قبرکے قریب دفن کیاجائے،جیساکہ امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں جید سند کے ساتھ اس کی تخریج کی ہے۔(ت) |
اس سے نفع وانتفاع میت زائرین حاصل یہ مقصدمحمود ہے اور ہرمقصد محمودقربات میں معدود۔درمختارمیں زیرعبارت مذکورہ سوال ہے:
|
قدمنا فی الکراھیۃ انہ لایکرہ تطیین القبور فی المختار[2]الخ زادفیھا وفی الجنائزعن السراجیۃ لاباس بالکتابۃ ان احتج الیھا حتی لایذھب الاثر و لایمتھن[3]۔ |
ہم باب الکراہیۃ میں ذکرکرچکے ہیں کہ قول مختارمیں قبروں کی لپائی مکروہ نہیں الخ اسی کے باب الجنائز میں بحوالہ سراجیہ یہ اضافہ کیاکہ قبرپرلکھنے کی اگرضرورت ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں تاکہ س کانشان نہ مٹے اوراس کی توہین نہ کی جائے۔(ت) |
خانیہ میں ہے:
|
اوصی بعمارۃ قبرہ للتزیین فھی باطلۃ۔[4] |
زینت کے لئے قبر پرعمارت کی وصیت کی تو یہ وصیت باطل ہے۔(ت) |
ہندیہ میں محیط سے ہے:
[1] سنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب فی جمع الموتی فی قبروالقبریعلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۰۱
[2] الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرھم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۰
[3] الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۔۱۲۵،الفتاوی السراجیۃ کتاب الجنائز باب الدفن مطبع نولکشورلکھنؤ ۲۴
[4] فتاوٰی قاضیخان کتاب الوصایا فصل فی مایکون وصیۃ مطبع نولکشورلکھنؤ ۴ /۸۳۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع