30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب سوال ششم: بطلان وصیت کے لئے تقریرمذکوراصلًا صحیح نہیں،اوپرگزراکہ وصیت دوقسم ہے:تملیك وقربت۔ وانا اقول وباﷲ التوفیق(اورمیں کہتاہوں اورتوفیق اﷲ ہی کی ہے۔ت)کراہت منافی تملیك ہرگزنہیں ہوسکتی،
|
الاتری ان البیوع الفاسدۃ محرمۃ وتفید الملك فاذا جامع الملك الحرمۃ فمابالك بالکراھۃ۔ |
کیاتونہیں دیکھتاکہ بیوع فاسدہ حرام ہیں اورمِلك کافائدہ دیتی ہیں۔جب ملك حرمت کے ساتھ جمع ہوگیا توکراہت کے ساتھ جمع ہونے میں تیراکیاخیال ہے۔(ت) |
اورمنافی قربت بھی صرف اس صورت میں ہے کہ شیئ فی نفسہ مکروہ ہو اوریہ جبھی ہوگا کہ وہ اصلًا نوع قربت سے نہ ہو،
|
فان الندب والکراھۃ متنافیان لایسوغ اجتماعھما من جھۃ واحدۃ۔ |
کیونکہ ندب اورکراہت آپس میں متنافی ہیں لہذا ایك ہی جہت سے ان کا اجتماع جائزنہیں(ت) |
بخلاف کراہت عارضی کہ زنہارمنافی قربت نہیں ہزارجگہ ہوتاہے کہ شیئ فی نفسہ قربت ہو اوراسے خارج سے کراہت عارض جیسے آستین چڑھائے ہوئے نمازپڑھنا،علماء نے کراہت ومعصیت سے بطلان وصیت پرصرف دوصورت خاصہ میں استثناء کیا ہے جہاں تملیك نہیں اورفعل فی نفسہٖ مکروہ ہے،حاصل استدلال یہ کہ یہاں تملیك نہ ہونا تو ظاہراوراس ظہور ہی کے باع یہ مقدمہ مطوی فرما جاتے ہیں،رہی قربت وہ یوں نہیں ہوسکتی کہ فعل خودمکروہ ہے اورایسا مکروہ قربت نہیں ہوسکتا تو دونوں نوع وصیت منتفی ہوئیں اوربطلان لازم آیا،
|
فان انتفاء الاقسام باسرھا قاض بانتفاء المقسم راسا۔ |
تمام اقسام کامنتفی ہونا مقسم کے منتفی ہونے کاتقاضا کرتا ہے۔(ت) |
بخلاف دوصورت باقی اعنی صورت تملیك وصورت قربت ذاتی وکراہت عارضی کہ ان میں ہرگزکراہت سے بطلان پرحجت نہیں پاتے بلکہ صراحۃ صحت وصیت ارشاد فرماتے ہیں تینوں صورتوں کے شواہدلیجئے:
صورت اولٰی:کی دو۲مثالیں یہی ضرب قبہ وتطیین قبرہیں یعنی جب بہ نیت تزیین ہوکہ اپنی قبرکو مزین کرانا فی نفسہ نوع قربت سے نہیں بخلاف اس صورت کے کہ بقائے نشان مقصود ہوکہ یہ فعل شارع صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے معہود۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع