30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یکون علٰی خلاف الموجب فیصیر شرطا فاسد اوالبیع یبطل بہ والھبۃ والصدقۃ والنکاح لاتبطل بل یبطل الاستثناء وکذا الوصیۃ لاتبطل لکن یصح الاستثناء لان الوصیۃ اخت المیراث والمیراث یجری فیما فی البطن [1] اھ ملخصًا۔ |
شامل ہے،تویہ استثناء موجب کے خلاف ہونے کی وجہ سے شرط فاسد ہوا اوربیع شرط فاسد کے ساتھ باطل ہوجاتی ہے۔ ہبہ،صدقہ اور نکاح باطل نہیں ہوتے بلکہ استثناء باطل ہو جاتا ہے۔یونہی وصیت باطل نہیں ہوتی لیکن اس میں استثناء صحیح ہوتاہے اس لئے کہ وصیت میراث کی بہن ہے اور میراث اس میں جاری ہوجاتی ہے جوپیٹ میں ہے اھ (تلخیص)(ت) |
جہالت بیع میں مفسد ہے اور وصیت کومضرنہیں کماقدمنا عن الشامی عن الزیلعی(جیساکہ ہم شامی سے بحوالہ زیلعی پہلے ذکرکرچکے ہیں۔ت)اوربیع میں استثنائے ارطال معلومہ سے روایت فساد کی علت یہی جہالت تھی کما سمعت عن الھدایۃ وردالمحتار ومثلہ فی الفتح وغیرہ(جیساکہ توہدایہ اورردالمحتارسے سن چکاہے اوراسی کی مثل فتح وغیرہ میں ہے۔ت) تو وصیت کااس پرقیاس کھلامع الفارق ہے۔
رابعًا علت منع یہی سہی کہ شاید اتنے ہی رطل پیداہوں تویہ بھی وصیت میں اصلًا خلل اندازنہیں،
|
کما اسلفنا عن الھندیۃ عن المحیط من قولہ وربما لاتحصل الغلۃ فی بعض السنین۔[2] |
جیساکہ ہم ہندیہ سے بحوالہ محیط اس کایہ قول ذکرکرچکے ہیں کہ بسا اوقات بعض سالوں میں پیداوار حاصل نہیں ہوتی۔(ت) |
خامسًا: وقت محاصل وغلہ قُری وبساتین وغیرہا کی صحت وصیت میں شبہ نہیں کتب فقہ میں اس کے لئے باب جداگانہ موضوع اور شك نہیں کہ ان اشیاء پرجومحصول جانب سلطنت سے معین ہوتاہے وہ عرفًا معلوم الادا ومعہودالاستثناء ہے والمعھود عرفًا کالمشروط لفظًا(جوعرف کے اعتبارسے معہودہو وہ اس کی مثل ہوتاہے جو لفظ کے اعتبارسے مشروط ہو۔ت) توجو استثناء بے ذکرکئے خودہی مذکورہے اس کی تصریح کیامفسد ہوسکتی ہے وھذا ظاھر جدًا(اوریہ خوب ظاہرہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع