30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب سوال پنجم: وجہ مذکورسے وصیت پرکوئی اثرعدم جواز کانہیں پڑسکتا اس وجہ کی نہ بناصحیح ہے نہ مبنی درست،نہ وصیت کابیع پر قیاس مقبول۔
اوّلًا جواب سوال سوم میں معلوم ہولیا کہ یہاں سرے سے استثناء ہی نہیں۔ثانیًا ہو بھی توقول صحیح ومعتمد ظاہرالروایۃ یہی ہے کہ ارطال معلومہ کااستثناء بیع میں بھی روا۔ہدایہ میں بعد عبارت مذکورہ سوال ہے:
|
لان الباقی بعدالاستناء مجھول قال رضی اﷲ تعالٰی عنہ قالوا ھذا روایۃ الحسن وھو قول الطحطاوی اما علی ظاھرالروایۃ ینبغی ان یجوز لان الاصل ان ما یجوزا یرادالعقد علیہ بانفرادہ یجوز استثناہ من العقد وبیع فقیرمن صبرۃ جائزفکذا استثنائہ بخلاف استثناء الحمل واطراف الحیوان لانہ لا یجوز بیعہ فکذا استثناءہ [1] اھ باختصار۔ |
کیونکہ استثناء کے بعد باقی مجہول ہے۔مصنف رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہاعلماء نے کہاہے کہ یہ روایت امام حسن کی ہے اور وہی طحاوی کاقول ہے۔لیکن ظاہرالروایۃ پر اس کوجائز ہونا چاہئے اس لئے کہ ضابطہ یہ ہے جس شیئ پربطور انفراد عقدکا واردہونا جائزہو عقد سے اس کااستثناء بھی جائزہوتاہے۔ڈھیر میں سے ایك بوری کی بیع جائزہے تواسی طرح اس کااستثناء بھی جائزہوگا بخلاف حمل اورجانورکے اجزاء کے،کیونکہ ان کی بیع جائزنہیں،اسی طرح ان کااستثناء بھی جائزنہیں اھ (اختصار) (ت) |
تنویرالابصارمیں ہے:
|
ماجاز ایراد العقد علیہ بانفرادہ صح استثناؤہ منہ فصح استثناء ارطال معلومۃ من بیع ثمر نخلۃ۔[2] |
جس پربطورانفراد عقدکاواردکرنا جائزہے اسکا استثناء بھی عقد سے جائزہے۔چنانچہ درخت کے پھل کی بیع سے معیّن رطلوں کااستثناء صحیح ہے۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع