30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الایضاح،والاولٰی مااسلفنا عن الوقایۃ والنقایۃ لعدم تقییدہ بالمال فیعم ما اذا اوصی بان یدفن فی مقبرۃ کذا بثوب فلان الزاھد فقد قال فی الخلاصۃ و البزازیۃ والشرنبلالیۃ وردالمحتار وغیرھا یراعی شرائطہ ان لم یلزم مؤنۃ الحمل فی الترکۃ[1] اھ قلت و المراد بالموت مایعم الحکمی وھو مرض الموت و الاولی التصریح بہ لکن ھذا لابد من تخصیصہ بالمال فان الایجابات الغیر المالیۃ کامرہ اجیرہ او ابنہ ان اسقنی اواخذ منی لاتعد وصیّۃ وان کانت فی مرض الموت بخلاف المضاف الی مابعدہ کما لایخفی فاذن احق مایقال فی حدھا ایجاب مضاف الی مابعد الموت او الی منجزفی مرض الموت فاحفظہ۔واﷲ التوفیق۔ |
بحوالہ نہایہ بحوالہ ایضاح پہلے نقل کرچکے ہیں،اور اولٰی تعریف وہ ہے جسے ہم بحوالہ وقایہ ونقایہ پہلے ذکرکرچکے کیونکہ اس میں مال کی قیدنہیں لگائی گئی۔لہٰذا وہ شامل ہوگئی اس صورت کوکہ جب کسی نے وصیت کی کہ اس کوفلاں قبرستان میں فلاں زاہد کے کپڑوں میں دفن کیاجائے۔ خلاصہ، بزازیہ،شرنبلالیہ اورردالمحتار وغیرہ میں کہاہے وصیت کی شرائط کا لحاظ کیاجائے گا اگرترکہ میں باربرداری کاخرچہ لازم نہ آئے الخ۔میں کہتاہوں موت سے مراد وہ ہے جوموت حکمی کوشامل ہے اوروہ مرض الموت ہے،اوراس کی تصریح کرنا اولٰی ہے،لیکن اس میں مال کی تخصیص ضروری ہے اس لئے کہ ایجابات غیرمالیہ جیسے کسی شخص کا اپنے اجیریا بیٹے کو حکم دینا کہ مجھے پانی لاکرپلاؤ یامیری خدمت کرو۔ان کاشمار وصیت میں نہیں ہوتا اگرچہ یہ مرض الموت میں ہوں بخلاف اس کے کہ وہ موت کے مابعد کی طرف منسوب ہو،جیساکہ پوشیدہ ہیں۔تو اس صورت میں وصیت کی تعریف یوں کرنا اولٰی وانسب ہے کہ وہ ایساایجاب ہے جوموت کے مابعد کی منسوب ہویااس کی طرف منسوب ہو جس کی تنجیزمرض الموت میں کی گئی ہے۔اس کو محفوظ کرلے۔اوراﷲ ہی کی طرف سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔(ت) |
بالجملہ مطلق وصیت نہ عبادات سے ہے نہ معاملات سے بلکہ دونوں میں داخل دونوں کوشامل۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع