30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کتاب البیوع۔ |
کی گئی ہے(ت) |
پھروصیت دوقسم ہے،ایك تملیك مثلًا زید یاعمرویاابنائے فلاں وغیرہم معین ومحصور اشخاص کے لئے یہ صورت اغنیاء وفقراء سب کے لئے ہوسکتی ہے،صورت اولٰی معاملات سے ہے مثل ہبہ اورثانیہ عبادات سے مثل صدقہ،دوسری قربت بلاتملیك مثل وصیت بوقف وعتق ودیگر اعمال پھروصیت برائے ارباب حاجت غیرمحصورین بوجہ عدم انحصار تملیك نہیں ہوسکتی یہ صرف قربت وازقبیل عبادات ہے۔
|
یرشدك الٰی ھذا ماقدمنا عن الدر من الاصل فی الوصیۃ الخ وفی الھندیۃ عن المحیط عن فتاوی الامام ابی اللیث فیما لواوصی بثلث مالہ لاعمال البر ان کل مالیس فیہ تملیك فھو من اعمال البرحتی یجوز صرفہ الی عمارۃ المسجد وسراجہ دون تزیینہ[1] الخ ومسائل الباب اکثر من ان تحصٰی۔ اقول: وبہ ظھران ماذکر فی عامۃ الکتب فی حد الوصیۃ انھا تملیك مضاف الی مابعد الموت علٰی وجہ التبرع فھو تحدید لہ باعتبار احدنوعیہ والحد الجامع ما قدمنا عن النتائج عن النھایۃ عن |
اس کی طرف تیری رہنمائی کرتی ہے وہ بات جو درکے حوالے سے ہم پہلے بیان کرچکے ہیں یعنی وصیت میں اصل یہ ہے الخ اورہندیہ میں بحوالہ فتاوٰی امام ابواللیث محیط سے منقول ہے اس صورت کے بارے میں کہ اگرکسی نے نیك کاموں کے لئے اپنے مال کے تہائی کی وصیت کی یہ کہ جس میں تملیك نہ ہو وہ نیك کاموں میں سے ہے یہاں تك کہ اسے مسجد کی تعمیر اورچراغ کے لئے خرچ کرنا جائزہے نہ کہ اس کی زیب و زینت کے لئے الخ اس باب کے مسائل شمار سے زائدہیں۔میں کہتا ہوں اوراس سے ظاہرہوگیا وہ جوعام کتابوں میں وصیت کی حد یعنی تعریف کے بارے میں مذکور ہے کہ بے شك وصیت ایسی تملیك ہے جوموت کے مابعد کی طرف بطور تبرع منسوب ہوتی ہے،یہ وصیت کی تعریف اس کی دو نوعوں میں سے ایك کے اعتبارسے ہوئی اورجامع تعریف وہ ہے جسے ہم نتائج سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع