30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ما اغل مما کثراوقل مع ان الوصیۃ محدودۃ بسنین معدودۃ قدر ماعسی ان یعیش الموصی لہ فکیف بجھۃ لا انقطاع لھا۔ |
اس کو مطلق رکھاکہ یہ شامل ہے جب تك پیداوار حاصل ہوتی ہے گی چاہے وہ پیداوار کثیرہو یاقلیل باوجودیکہ وصیت چند معدود سالوں کی حد تك محدود ہے یعنی جب تك وہ شخص زندہ رہے گا جس کے لئے وصیت کی گئی ہے توپھر یہ وصیت ایسی جہت سے کیسے ہوئی جس کے لئے انقطاع نہیں۔(ت) |
توحاصل یہ ٹھہراکہ زیدنے اپنے کل مال کی وصیت اس مسجد کے لئے کی اورنیزکل کی وصیت فقرأ کوماہوار کے لئے اوران کے علاوہ پانسوروپے مطلقًا فقراء یاخاص فقراء مسافرین کواوردینے کہے اور ڈھائی ہزار ان اشخاص معلومین کووصیۃً دئیے جملہ اموال وصایا دوبار جمیع مال اورتین ہزار روپے ہوئے پُر ظاہر کہ کل مال بھی ان وصایا کے نصف کی بھی گنجائش نہیں رکھتا تواب اس کے دریافت کی حاجت ہوگی کہ ان میں کون کون وصیت کس کس حد پر نفاذپائے گی کتنا کتنا ہروصیت میں دیاجائے گا کون سی وصیت بوجہ ازحجیت تقدیم پائے گی کونسی مرجوح ٹھہرکرتاخیرکردی جائے گی اس کاحساب صحیح بتانے کے لئے یہ جانناضرورکہ کل مال بعد تجہیز وتکفین مسنون وادائے دیون کی مقدار کس قدرہے میت نے ترکہ میں زرنقد کتناچھوڑا جائداد منقولہ وغیر منقولہ متروکہ خالصہ یعنی بعد تجہیزوتکفین وقضائے دیون کی قیمت بازار کے بھاؤ سے کیاہے وارثوں میں بالغ کتنے ہیں ان میں کون کون کس کس وصیت کو کس حدتك جائزرکھتاکون کون اجازت نہیں دیتاہے ان امور سے سوال میں کچھ مذکورنہیں نہ سائل نے اس بحث سے استفسارکیالہٰذا ہم بھی مطوی وملتوی رکھیں اگر دریافت منظورہو امورمسطورہ بتفصیل تام بتاکر سوال کیاجاسکتاہے۔
جواب سوال چہارم: تقسیم عبادات ومعاملات میں عبادات سے مطلقًا حقوق اﷲ مراد ہوتے ہیں خواہ عبادات محضہ ہوں جیسے ارکان اربعہ یاقربات محضہ جیسے عتق ووقف حتی کہ نکاح بھی خواہ عبادت یاقربت مع معنی عقوبت جیسے کفارات اورمعاملات حقوق العباد ہیں مثل بیع واجارہ وہبہ واعارہ وغیرہ اوریہاں نظرمقصود اصل کی طرف ہے اصل مقصود تقرب الی اﷲ ہے تو عبادت ہے یامصالح عباد تومعاملہ
|
فاجتماعھما کما فی النکاح لایقدح فی التقسیم وقدتکفل ببیان کل ذٰلك فی ردالمحتار صدر |
ان دونوں کااجتماع جیساکہ نکاح میں ہے تقسیم میں مانع نہیں،تحقیق اس تمام کے بیان کی ردالمحتار میں کتاب البیوع کے آغاز پرکفالت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع