30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عنھا فینفذ الثلث فقط[1] الخ۔ |
کے تہائی حصہ میں نافذکی جائے گی فقط(ت) |
پھرسب میں پچھلی وصیت ہے کہ وصیان مذکور ہرماہ محتاجوں کواس قدرخیرات دیاکریں جونظرمیں مناسب آئے دوبارہ کل مال کی وصیت ہے کہ اس کی تعیین مقدارمیں اگرچہ اوصیاء کواختیار دیاہے اوریہ اختیارصحیح اورایسی وصیت جائز ہے۔
|
کما اذا اوصی بجزء اوسھم من مالہ فالبیان الی الورثۃ یقال لھم اعطوہ ماشئتم کما فی الدر[2] المختار وعامۃ الاسفار وفی ردالمحتار عن التبیین لانہ مجھول یتناول القلیل والکثیر والوصیۃ لاتمتنع بالجھالۃ و الورثۃ قائمون مقام الموصی فکان الیھم بیانہ[3] اھ قلت فالوصی المفوض الیہ بنص الموصی اولٰی بذٰلك کمالایخفی۔ |
جیسے کسی شخص نے اپنے مال میں سے ایك جزیا ایك سہم کی وصیت کی تواس کابیان وارثوں کے ذمے ہوگا انہیں کہاجائے گاکہ جوکچھ رقم تم چاہو اس کودے دوجیساکہ درمختاراورعام کتابوں میں ہے۔ردالمحتارمیں تبیین کے حوالے سے منقول ہے کیونکہ وہ مجہول ہے قلیل وکثیر دونوں کوشامل ہے اور وصیت بسبب جہالت کے ممنوع نہیں ہوتی اوروارث موصی کے قائم مقام ہوتے ہیں لہذا اس کابیان انہیں کوسونپاجائے گا الخ میں کہتاہوں کہ وہ وصی اس کازیادہ حقدارہے جس کے سپرد معاملہ موصی کی نص سے ہواہے جیساکہ پوشیدہ نہیں (ت) |
مگریہ کوئی مقدار تجویزکریں آخرکچھ نہ کچھ ماہوارکی وصیت ہوگی اوروہ بلاتفرقہ کثیروقلیل مطلقًا جمیع مال کی وصیت ہے،
|
کما علمت اٰنفا عن العٰلمگیریۃ وفیھا ایضا عن المبسوط لواوصی بان ینفق علیہ خمسۃ دراھم کل شھرمن مالہ فانہ یحبس جمیع الثلث لینفق علیہ منہ کل |
جیساکہ عالمگیریہ کے حوالہ سے ابھی ابھی توجان چکا ہے،اسی میں بحوالہ مبسوط ہے کہ اگرکسی نے وصیت کی کہ اس کے مال میں سے فلاں پرپانچ درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں تواس کے ترکہ کا ایك تہائی حصہ پورا روك لیاجائے گاتاکہ اس میں سے موصی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع