30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
مال کی وصیت کی اوران دونوں کے لئے بھی تمام مال کی وصیت کی۔لہذا تمام ائمہ کے نزدیك ان کے درمیان مال نصف نصف تقسیم ہوگا۔ اوراگروارثوں نے اجازت نہ دی توتمام ائمہ کے نزدیك تہائی مال ان کے درمیان نصف نصف تقسیم کیاجائے گا۔محیط میں یونہی ہے اھ (اختصار) (ت) |
صرف تین ہزاراس لئے کہ تجہیزوتکفین توحاجات اصلیہ سے ہے اوردین مہربھی مقدم تو ان کے وصایا کے مرتبے میں یہی تین ہزاررہے۔
|
فی العقود الدریۃ،سئلت عن رجل اوصی بالف یخرج منھا تجھیزہ وکتفینہ والباقی منھا لعمل میراث و اوصی بخمسمائۃ لزیدوبمثلھا لعمارۃ مسجد کذا و بمثلہ لعمارۃ مسجد کذا ایضا ولہ مملوك قیمتہ خمسمائۃ ایضا اعتقہ منجزافی مرض موتہ واوصی لہ بالف و خمسمائۃ وخمسین وبلغ ثلث ترکتہ ثلثۃ اٰلاف وثمان مائۃ وبلغت نفقۃ تجھیزہ ثلثمائۃ فکیف تقسم فاجبت کلفۃ التجھیز الشرعی من اصل المال فکانہ استثناھا من الالف فیکون الباقی من الالف لعمل المیراث سبعمائۃ وتصیر جملۃ الوصیۃ اربعۃ اٰلاف و مائتین وخمسین وقد ضاق الثلث |
العقودالدریہ میں ہے مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھاگیا جس نے ہزاردرھم کی وصیت کی کہ اس میں سے اس کی تجہیزوتکفین کاخرچ نکالاجائے اورباقی نیك کاموں پرخرچ کیاجائے اوراسی نے زیدکے لئے پانچسودرہم اورفلاں مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ سودرہم اورمزید فلاں مسجد کی تعمیرکے لئے بھی پانچ سودرہم کی وصیت کی۔اوراس کاایك غلام تھا اس کی قیمت بھی پانچسودرہم تھی جس کو اس نے اپنی مرض موت میں بطور تنجیزآزاد کردیا اوراس کے لئے ایك ہزارپانچ سو پچاس درہم کی وصیت کی،اوراس کے ترکہ کاتہائی حصہ تین ہزارآٹھ سوتك پہنچااوراس کی تجہیزوتکفین کاخرچ تین سو تك پہنچا تواب اس کی وصیت کیسے تقسیم کی جائے گی؟ میں نے اس کاجواب دیا شرعی تجہیزوتکفین کاخرچ اصل مال سے ہوگا گویا اس نے ہزارمیں سے اس کومستثنٰی کیاہے تو اس طرح نیك کاموں پرخرچ کرنے کے لئے ہزار میں سے سات سودرہم باقی بچے،اور اس کی وصیت کا مجموعہ چارہزار دوسوپچاس ہواجوترکہ کے تہائی حصہ میں سے نہیں نکل سکتا۔چنانچہ وصیت صرف مال |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع