30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایجوز [1]۔ |
نے فرمایاکہ یہ جائزنہیں ہے۔(ت) |
اوراگر وہاں غریب اپنے معنی اصلی یعنی مسافر ہی کے لئے بولاجاتا ہے تومسافروں کے لئے بھی وصیت صحیح ہے کہ یہ لفظ بھی حاجتمندی سے خبردیتاہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی" اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیۡنِ الٰی قولہ تعالٰی وَابْنِ السَّبِیۡلِ ؕ"۔[2] |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:صدقات فقیروں کے لئے اورمسکینوں کے لئے ہیں،اﷲ تعالٰی کے قول ابن السبیل یعنی مسافرتك ۔(ت) |
اوروصیت جب غیر محصورلوگوں کے لئے ہے تو اس کامناط صحت یہی دلالت حاجت ہے۔
|
فی الدرالمختار الاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالٰی وھو معلوم و ان کان لاینبئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والابطلت۔[3] |
درمختارمیں ہے وصیت میں اصل یہ ہے کہ جب وہ ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبر دیتاہے جیسے فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئے تووصیت صحیح ہوگی،اگرچہ اس قبیلے کے یتیم قابل شمارنہ ہوں،جیساکہ گزرچکا،کیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالٰی کے لئے واقع ہوئی اور وہ معلوم ہے،اوراگر وصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع نہ ہوتو پھرجن کے لئے وصیت کی گئی اگروہ قابل شمارہیں تو وصیت صحیح ہے اوراس کوتملیك قراردیا جائے گا اوراگروہ قابل شمارنہیں تووصیت باطل ہے۔(ت) |
ہاں مستحق یہاں بھی فقرائے مسافرین ہوں گے نہ اغنیاء۔
|
فی وجیز الامام الکردری نوع من الفصل الثانی من کتاب الوصایا اوصی لاھل السجون اوالیتامٰی او الارامل اوابناء السبیل اوالغارمین اوالزمنٰی یعطی فقراء ھم لاغنیائھم[4] اھ۔ |
قیدیوں یا یتیموں یابیواؤں یامسافروں یامفروضوں یااپاہجوں کے لئے وصیت کی توان کے فقراء کودیاجائے گا نہ کہ ان کے مالداروں کوالخ،اوراسی کی مثل کافی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع